تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 380
٣٩ کفار میں سلسل جنگ جاری رہی۔اور جو کفار مفتوع ہو جاتے تھے اسلامی مملکت میں انہیں وحی حقوق حاصل ہو جاتے تھے جو مسلمانوں کو حاصل ہوتے تھے۔اُن دنوں آج کل جیسی منتخب شدہ اسمبلیاں موجود نہ تھیں سوال : کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں عدلیہ علیحدہ ہوتی منفی ؟ جواب :۔ان دنوں سب سے بڑی عدلیہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔سوال : کیا اسلامی طرز کی حکومت میں ایک کا فر کو حق حاصل ہے کہ وہ کھلے طور پر اپنے مذہب کی تبلیغ کرے ؟ جواب : جی ہاں۔سوال :- اسلامی مملکت میں اگر کوئی مسلمان مذاہب کے تقابلی مطالعہ کے بعد دیانتداری کے ساتھ اسلام کو ترک کرکے کوئی دوسرا مذہب اختیار کر لیتا ہے مثلاً عیسائی یا دہر یہ ہو جاتا ہے۔تو کیا مرہ اس مملکت کی رعایا کے حقوق سے محروم ہو جاتا ہے ؟ جواب :۔میرے نزدیک تو ایسا نہیں۔لیکن اسلام میں دوسرے ایسے فرقے پائے جاتے ہیں جو ایسے شخص کو موت کی سزا دینے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔سوال: - اگر کوئی شخص مرزا غلام احمد صاحب کے عادی پر واجبی غور کرنے کے بعد یا نداری سے اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ آپ کا دعوے غلط تھا۔تو کیا پھر بھی وہ مسلمان رہے گا ؟ جواب : جی ہاں۔عام اصطلاح میں وہ پھر بھی مسلمان سمجھا جائے گا۔سوال: کیا آپ کے نہ دیا۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو سزا دے گا جو غلط مذہبی خیالات با عقائد رکھتے ہوں ؟ لیکن دیانتداری سے ایسا کرتے ہوں ؟ جواب: خیر نزدیک بهزا و جزا کا اصول دیانتداری اور نیک نیتی پر مبنی ہے نہ کہ عقیدہ کی صداقت پر۔سوال :۔کیا ایک اسلامی حکومت کا یہ مذہبی فرمن ہے کہ وہ تمام مسلمانوں سے قرآن اور سنت کے تمام احکام کی جن میں حقوق اللہ کے متعلق قوانین بھی شامل ہیں پابندی کرائے ؟ جواب :۔اسلام کا بنیادی اصول یہ ہے کہ گناہ کی ذمہ داری انفرادی ہے اور ایک شخص صرت ان ہی گناہوں کا ذمہ دار ہوتا ہے جن کا وہ خود مرتکب ہوتا ہے۔اس لیے اگر اسلامی مملکت میں کوئی شخص قرآن وسنت کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کا وہ خود ہی جواب دہ ہے۔