تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 29 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 29

۲۹ ہوئے تھے لیکن کے آجانے کے بعد وہ غائب ہو گئے۔کار کو آگ لگانے کے بعد چند لوگوں نے اُس دروازے اور کمرے کو آگ لگانی شروع کر دی جو ہجوم نے پتھراؤ کر کے تو ڑا تھا۔یہ آگ کار کی گریوں اور اخبارات وغیرہ کے ذریعہ لگائی گئی۔ان کی آن میں پورا کمرہ اور باہر کا بھیجا شعلوں کی لپیٹ میں آگیا۔دوسرے بڑے دروازے سے کافی لوگ بیت کے اندر داخل ہوتے اور باہر نکلتے رہے۔جس مکان کے چوبارہ پیر میں کھڑا ہوا تھا اُس کے تقریباً بالقابل مکان کے چوبارے پر سے ایک چودہ پندرہ سالہ لڑکا ہجوم پر پتھر برساتا رہا۔شاید ہجوم کو یہ باور کروا کر مزید مشتعل کرنے کے لیے کہ یہ پتھر احمدی مار رہے ہیں۔نماز جمعہ کے بعد مجھے یہ بھی علم ہوا تھا کہ ایک ۵۰S۔P کو سول کپڑوں میں نبیت کے ساتھ کی عمارت میں جو کہ P۔W۔D کا دفتر ہے بٹھایا گیا تھا لیکن نصف گھنٹہ تک نہ تو پولیس جائے واردات پر پہنچی اور نہ ہی فائر بریگیڈ کا انجن اور ہجوم اپنی من مانی کرتا رہا حالانکہ دو نو جوانوں مسمی محمد فاضل اور محمد داحمد را بین چوہدری یوسف علی صاحب مذکور) نے علی الترتیب یکے بعد دیگرے پولیس سٹیشن پر جاکر بھی اطلاع دی۔جو کہ جائے وقوعہ سے صرف دو یا تین منٹ کے فاصلہ پر ہے۔اتنی دیمہ تک ہجوم کا ایک حصہ اس گلی میں تھی آگیا جس میں وہ مکان واقع تھا۔جس میں میں موجود تھا۔اور گلی کو دونوں طرف سے بلاک کر لیا۔ایک بوڑھا۔ہجوم کو ہاتھوں کے اشارے سے بتلارہا تھا کہ اس مکان میں رہنے والا احمدی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔بالآخر میں یہ بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں مندرجہ بالا بیان اگر ضرورت ہو تو حاضر عدالت ہو کہ حلفاً دینے کے لیے ہر وقت تیار ہوں۔فقط الراقم برکت اللہ خان ولد ملک نیازہ محمد خاں بیتہ :۔معرفت میاں عطاء اللہ صاحب وکیل بی اے ایل ایل بی کالج۔دڈ راولپنڈی شہر۔" جلومیں اس دن رات کے انکے بابو اللہ بخش مهاب مکان امیر جماعت احمدیہ راولپنڈی امیر جماعت احمدیہ راولپنڈی کے مکان پر بھی