تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 370
کو اسلام سے خارج کیا جائے۔پھر شیعوں کو اسلام سے خارج کیا جائے۔پھر اہلحدیث کو اسلام سے خارج کیا جائے۔پھر یہ لولیوں کو اسلام سے خارج کیا جائے۔پھر دیوبندیوں کو اسلام سے خارج کیا جائے اور پھر مولانا مودودی کے اتباع کی حکومت قائم کی جائے مولانا مودودی کے اتباع کی حکومت تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے یقیناً نہیں بنے گی۔لیکن پھر ایک دفعہ دنیا میں وہی تباہی کا دور شروع ہو جائے گا۔جوگزشتہ ایک ہزار سال تک مسلمانوں میں جاری رہا اور وہ طاقت جو پچھلے پچیس سال میں مسلمانوں نے ململ کی ہے بالکل جاتی رہے گی۔اور مسلمان پھر ایک دوسرے کا گلا کاٹنے لگ جائیں گے اور جماعت اسلامی کے پیرو اپنے دل میں خوش ہوں گے کہ ہماری حکومت قائم ہو رہی ہے لیکن ایسا تو نہ ہوگا۔ان اسلامی حکومتیں کمزور ہوکر پھر ایک رلعمنہ کی صورت میں۔یا تو روس کے ملتی میں جائیں گی یا مغربی حکومتوں کے گلے میں جا پڑیں گی۔خدا اسلام کے بدخواہوں کا منہ کالا کرے اور اسلام کو اس دن پلر گلے کے دیکھنے سے محفوظ رکھے۔مولانا مودودی صاحب نے جو کچھ لکھا ہے اس کی بجائے صحیح طریقہ ملک میں امن قائم کرنے کا یہ ہے کہ:۔اسلام کی طرف منسوب ہونے والے مختلف فرقے ، خواہ اپنے اپنے مخصوص نظریات کے ما تحت دوسرے فرقوں کے متعلق مذہبی لحاظ سے کچھ ہی خیال رکھتے ہوں یعنی خواہ انہیں سچا مسلمان سمجھتے ہوں یا نہ سمجھتے ہوں مسلمانوں کے ملی اتحاد کی خاطر اور اسلام کو فرقہ وارانہ انتشار سے بچانے کی عرض سے ان سب کو کلی طبیہ کی ظاہری حد بندی کے ماتحت بلا استثناء مسلمان تسلیم کیا جائے اور اس میں شیعہ بستی۔اہلحدیث۔اہل قرآن۔اہل ظاہر۔اہل باطن - حنفی۔مالکی جنبلی۔شافعی - احمدی اور غیر احمدی میں کوئی فرق نہ کیا جائے۔۔اگر اس ایک ہی طریق کو استعمال نہیں کرنا۔جس کے بغیر مسلمانوں کو ترقی حاصل نہیں ہوسکتی۔تو پھر احمدیوں کو اقلیت قرابہ دینے سے کچھ نہیں بنتا۔کیونکہ جیساکہ ہم اوپر ثابت کر آئے ہیں۔ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا دشمن ہو رہا ہے اور اسلام کی خیر خواہی دلوں میں نہیں ہے۔صرف اپنے فرقوں کی خیر خواہی دلوں میں ہے۔اس لیے یہ اپریشن صرف احمدیت پر ختم نہیں ہو جائے گا احمدیت پر تجربہ کر لینے والا ڈاکٹر بعد میں دوسرے فرقوں پر اس نسخہ کو آندمائے گا۔پس ایک ہی دفعہ یہ