تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 28
۲۸ دیتا ہوں کہ : - ر مارچ ۱۹۵۳ء بروز جمعہ۔میں نمازہ جمعہ پڑھنے کے لیے حسب معمول بہت احمد یہ واقع سری روڈ گیا۔نماز پڑھے جانے کے بعد حسب معمول میں نماز عصر تک وہیں رہا۔نماز عصر پڑھنے کے بعد ایک صاحب چوہدری یوسف علی صاحب کی دعوت چائے پر میں انکے مکان پر جو کہ بیت احمدیہ کے بالمقابل کی گلی میں ہے چلا گیا۔تقریبا ہ نبجے شام ایک بڑا ہجوم جس کی تعداد ۱۵۰۰ سے ۲۰۰ کے درمیان ہوگی لیاقت باغ کی طرف سے بیت احمد یہ کی طرف آیا پہلے کچھ حصہ سیدھا آگے گزر گیا لیکن پھر ایک شخص نے بہت احمدیہ کی منڈیر پر چڑھ کہ ہاتھوں کے اشاروں سے ہجوم کو روکا۔اور پھر بیت کے ملحقہ گلی کی جانب بھیجنا شروع کیا۔چند لڑکے بہت کی بیرونی منڈیر پر بیٹھ گئے۔ہجوم کا اگلا اور فعال حصہ دیاتی اور اجد قسم کے لوگوں کی اکثریت پر مشتمل تھا جو کہ باہر سے منگوائے گئے معلوم ہوتے تھے۔ہجوم عجب شور و غل کرتا ہوا آرہا تھا۔اور اگلے حصہ میں لوگ بھا گھڑا قسم کا ناچ کرتے ہوئے آرہے تھے۔بیت احمدیہ کے دروازے بند تھے۔ہجوم نے پتھر اور روڑے دروازوں پر مارنے شروع کر دیئے۔جس سے گلی سے ملحقہ دروازہ بالکل ٹوٹ گیا۔اس کے بعد دو نوجوان عمارت کے چھے پر چڑھ گئے اور جو بور ڈ آویزاں تھے ان کو اتار پھینکا۔علاوہ ازیں عمارت کا بڑا دروازہ بھی ہجوم نے کھول لیا۔ایک کا ربیت کے بالکل ساتھ کھڑی تھی۔ہجوم نے اُس پر پتھراؤ کرنا شروع کر دیا۔ایک شخص نے جو کہ غالبا کار کے مالک کا ملازم ڈرائیور ہو گا کار کوسٹارٹ کر کے ہجوم کی زہد سے باہر نکالنے کی کوشش کی لیکن ہجوم نے کار کے سامنے اور بازووں پر جمع ہو کر سڑک کے عین درمیان میں روک لیا اور کار پر تیز پتھراؤ کرنا شروع کر دیا۔ڈرائیور نے جان کو خطرہ میں دیکھ کوشش ترک کر دی۔ازاں بعد کچھ لوگوں نے بیت کے بڑے دردانہ ہے سے چٹائیان نیز تین سائیکلیں نکال کر اور کار کو الٹا کر اس پر رکھ دیں اور کا ر کی گنڈیاں نکال کر کار کو الٹا کہ اس پر رکھ دیں اور کار کی گریاں نکال کر کار کو آگ لگادی۔" ہجوم کے آنے تک تین سپاہی باور دی بہت کے بالمقابل ۶۰ فٹ کے فاصلے پر کھڑے