تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 369 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 369

۳۶۸ میں شور پڑ جاتا تھا۔لیکن آج عیسانی پر ظلم کرنے سے تو ساری دنیا میں مشور پڑ سکتا ہے۔مسلمان پر ظلم کرنے سے ساری دنیا میں شور نہیں پڑ سکتا۔عیسائی کسی ملک میں بھی رہتا ہو اگر اس پر ظلم کیا جائے تو عیسائی حکومتیں اس میں دخل دینا اپنا سیاسی حق قرار دیتی ہیں۔لیکن اگر کسی مسلمان پر غیر مسلم حکومت ظلم کرتی ہے اور مسلمان احتجاج کرتے ہیں تو انہیں یہ جواب دیا جاتا ہے کہ غیر ملکوں کے اندرونی معاملات میں دخل نہیں دیا جا سکتا۔گویا عیسائیت کی طاقت کی وجہ سے عیسائیوں کے لیے اور سیاسی اصول کارفرما ہیں لیکن مسلمانوں کی کمزوری کی وجہ سے سیاسی دنیا ان کے لیے اور اصول تجویز کرتی ہے۔ایسے زمانہ میں مسلمانوں کا متفق اور متحد ہونا نہایت ضروری ہے اور چھوٹی اور بڑی جماعت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہونا چاہیئے۔الیکشن میں ممبر کو اپنے جیتنے کی سچی خواہش ہوتی ہے اور وہ ادنیٰ سے ادنی انسان کے پاس بھی جاتا ہے اور اس کا ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔مسلمان حکومتوں کا معاملہ الیکشن جیتنے کی خواہش سے کم نہیں۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ ہم کو اس معاملہ میں چھوٹی جماعتوں کی ضرورت نہیں۔وہ صرف یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کو اسلامی حکومتوں کے طاقتور بنانے کی اتنی بھی خواہش نہیں منی ایک الیکشن لڑنے والے کو اپنے جیتنے کی خواہش ہوتی ہے۔پس وہ بچی خیر خواہی کا نہ مفہوم سمجھتا ہے اور نہ اس کو مسلمانوں سے سچی خیر خواہی ہے۔اس مودودی صاحب نے قادیانی مسئلہ لکھ کر قادیانی جماعت کا بھانڈا نہیں پھوڑا۔اپنی اسلامی محبت کا بھانڈا پھوڑا ہے اور اپنی سیاسی سوجھ بوجھ کا پردہ نانش کیا ہے۔کاش وہ اسلام کی گزشتہ ہزار سال کی تاریخ دیکھتے اور انہیں یہ معلوم ہوتا کہ کس طرح مسلمانوں کو پھاڑ پھاڑ کر اسلام تباہ کیا گیا۔اور پھاڑنے کے یہ معنے نہیں تھے کہ ان میں اختلاف عقیدہ پیدا کیا گیا تھا۔کیونکہ اختلاف عقیدہ کبھی بھی فتنہ پر دانوں نے پیدا نہیں کیا۔بلکہ اختلاف عقیدہ علماء وفقہاء کی دیدہ ریزیوں کا نتیجہ تھا۔پھاڑنے کے منے یہ تھے کہ اختلاف عقیدہ کی بناء پر بعض جماعتوں کو الگ کر کے اسلام کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔تاریخ موجود ہے۔ہر آدمی اس کی ورق گردانی کر کے اس نتیجہ کی صحت کو سمجھ سکتا ہے پس حقیقت یہ ہے کہ قادیانی مسئلہ کا حل اس طرح نہیں کیا جا سکتا ہو مولانا مودودی صاحب نے تجویز کیا ہے۔یعنی پہلے تو احمدیوں کو اسلام سے خارج کر کے ایک علیحدہ اقلیت قرار دیا جائے اور پھر وہ سلسلہ شروع ہو جائے جو ایک ہزار سال سے اسلام میں چلا آیا ہے یعنی پھر آغا خانیوں کوہ اسلام سے خارج کیا جائے بھر پو ہوں