تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 368
میں تقوی اور خشیت اللہ پیدا کر کے ان کو عدل و انصاف اور رواداری کا سبق سکھائیں کہ اسلام کی خدمت کرنے کا یہی ایک طریقہ ہے۔چنانچہ حضور نے آخری خطاب کے زیر عنوان تحریر فرمایا: - آخری خطاب مولانا مودودی صاحب نے قادیانی مسئلہ لکھ کر ملک میں خطر ناک تفرقہ اور انتشار پھیلانے کی کوشش کی ہے۔جہاں تک مولانا مودودی صاحب کے اپنے مفاد کا سوال ہے۔اس کے مطابق تو یہ کوشش بالکل جائز اور درست ہے کیونکہ وہ اپنی کتابوں میں صاف لکھ چکے ہیں کہ صالح جماعت کا یہ فرض ہے کہ ہر ذریعہ سے حکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے کیونکہ حکومت پر قبضہ کیے بغیر کوئی پروگرام ملک میں جاری نہیں ہو سکتا۔لیکن جہاں تک مسلمانوں کے مفاد اور امت مسلمہ کے مفاد کا سوال ہے۔یقیناً یہ کوشش نہایت نا پسندیدہ اور خلاف عقل ہے مسلمان جن خطر ناک حالات میں سے گزر رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے اس وقتہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ متحد کرنے اور مسلمانوں کی سیاسی ضرورتوں کے متعلق زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کرے۔بغیر اتحاد کے اس وقت مسلمان سیاسی دنیا میں سر نہیں اٹھا سکتا۔اس وقت بیسیوں ایسے علاقے موجود ہیں جن کی آبا دی مسلمان ہے۔جو سیاسی طور پر آزاد ہونے کی اہمیت رکھتے ہیں لیکن باوجود اس کے وہ آزاد نہیں۔وہ غیر مسلموں کے قبضہ میں ہیں اور بیسیوں ایسے ممالک اور علاقے موجود ہیں جہاں کے مسلمان موجودہ حالات میں علیحدہ سیاسی وجود دینے کے قابل نہیں ہیں۔لیکن انہیں ایسی آزادی بھی حاصل نہیں جو کسی ملک کے اچھے شہری کو حاصل ہو سکتی ہے اور ہونی چاہیے بلکہ ان کے ساتھ غلاموں کا سا سلوک کیا جاتا ہے اور انہیں معزز شہریوں کی حیثیت حاصل نہیں ہے اور جو علاقے مسلمانوں کے آزاد ہیں انہوں نے بھی ابھی پوری طاقت حاصل نہیں کی بلکہ وہ تیسرے درجیہ کی طاقتیں کہلا سکتے ہیں۔دنیا کی زبر دست طاقتوں کے مقابلہ میں ان کو کوئی حیثیت حاصل نہیں۔حالانکہ ایک زمانہ وہ تھا جب مسلمان ساری دنیا پر حاکم تھا جب مسلمان پر ظلم کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔مسلمان پر ظلم کرنے کے نتیجہ میں ساری دنیا