تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 366 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 366

اُن کے نزدیک مسلمان علماء کے لیے ضروری تھا کہ وہ جماعت احمدیہ کے کاموں میں اس کی تردید نہیں بلکہ تائید کریںاور تائید ہی نہیں اس کے نقش قدم پر چلیں یا لے سوالنمین متعلق مخالفت پاکستان وسم :۔یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کے مخالف ہیں اور عقلا میں وہ مخالفت ہونے چاہئیں کیونکہ وہ ایک نام کو مانتے ہیں اور اس طرح وہ ایک متوازہ ہی حکومت بنانے کے عظیم ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ امام کو مانا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے نام اور سیاست رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص امام کی بیعت میں نہ ہو وہ اپنی زندگی رائیگان کر دیتا ہے رکنز العمال جلد است و جلد ۳ منت۲) اور امام کا ہونا بڑی اچھی بات ہے اس کے بغیر تو کوئی انتظام ہو ہی نہیں سکتا جو لوگ امام کو سیاست کا حتی دیتے ہیں، اُن پر تو یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ وہ ایک متواند می حکومت بناتے ہیں لیکن جو لوگ اپنے امام کو سیاست کا ستی نہیں دیتے ، ان پر یہ اعتراض کسی طرح ہو سکتا ہے کہ وہ ایک متوازی حکومت بناتے ہیں۔جماعت احمدیہ کا تو اعتقاد یہ ہے کہ جس حکومت کے تحت میں رہو اس حکومت کی اطاعت کرو۔کیسی عجیب بات ہے کہ انگریز کے وقت میں تواس امر پر نہ وہ دیا جاتا اور بڑے شدومد سے یہ پراپیگنڈا کیا جاتا کہ احمدی اسلام کے غدار ہیں کیونکہ انگریز کی اطاعت کرتے ہیں اور پاکستان میں آکہ اس کے بالکل بر خلاف یہ کہا جارہا ہے کہ احمدی پاکستان کے خلاف متوازی حکومت بنا رہے ہیں۔ایک ہی تعلیم داد جگہ پر دو مختلف نتیجے کسی طرح پیدا کر سکتی ہے ؟۔احمد می تعلیم کی رو سے تو صرف احمدی جماعت ہی نہیں بلکہ احمدی جماعت کا امام بھی پاکستان کی حکومت کے تابع ہیں۔اور ان کا فرض ہے کہ پاکستان کی حکومت کے تابع رہیں باقی رہا یہ بے وقوقی کا سوال کہ اگر کسی وقت امام حکومت کے خلاف حکم دے تو پھر احمدی کیا کریں گے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم اس شخص کو امام تسلیم کرتے ہیں جو سب سے زیادہ شریعیت کی پابندی " ه مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ از افاضات حضرت امام جماعت احمدیہ الناشر الشركة الاسلامیہ لمیٹیڈ منا تا ما