تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 365
پارٹی کا متفقہ بیان ہے کہ قادیان کے تمام حصے صحرا کا منظر پیش کر رہے ہیں ہر جگہ ہو کا عالم ہے البتہ تہمین علاقے ایسے ہیں جہاں ایسے مسلمان دکھائے دیئے جو کفار کے مقابلہ میں اپنی جانیں قربان کرنے کا عزم صمیم کر چکے ہیں۔ان لوگوں کے چہروں سے بشاشات ٹپکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔پناہ گزینوں کی حالت بہت اہتر ہے مقامی ملڑی نے انہیں خوراک دینے سے انکار کر دیا ہے اور احمدی انجمن سے کہا ہے کہ وہ ان مصیبت نہ دوں کی خوراک کا انتظام کرے۔چنانچہ انجمن اپنا راش کم کر کے ان پناہ گزینوں کوخوراک دے رہی ہے۔نه مینداره و راکتو بره الله) اس سوال کے جواب کے آخر میں ہم جماعت احمدیہ کے متعلق مولانا محمد علی جوہر کی تصدیق مامان اعمال مولانامحمد علی جوہر مرقوم کی رائے بیان کر دینا ضروری سمجھتے ہیں۔مولانامحمدعلی ایسے بڑے لیڈر تھے کہ قائد اعظم اور مولانامحمد علی کے مقابلہ میں اور کوئی سیاسی لیڈ نہیں ھہر سکتا۔اور اسلام کی اتنی غیرت رکھتے تھے کہ دشمن بھی ان کی اس خوبی کو تسلیم کرتے تھے۔انہوں نے اپنے اخبار ہمدرد دہلی مورخہ ۲۶ ستمبر ۱۹۲۷ء میں لکھا : - نا شکر گزاری ہوگی کہ جناب مرزا بشیر الدین مسعود احمد صاحب اور ان کی اس منظم حیات کا ذکر ان سطور میں نہ کریں جنہوں نے اپنی تمام تر توجہات بلا اختلاف عقیدہ تمام مسلمانوں کی سمہودی کے لیے وقف کر دی ہیں۔یہ حضرات اس وقت تک اگر ایک جانب سلمانوں کی سیاسیات میں دلچسپی لے رہے ہیں تو دوسری طرف مسلمانوں کی تنظیم د تجارت میں بھی انتہائی جدوجہد سے منہمک ہیں اور وہ وقت دور نہیں جبکہ اسلام کے اس منظم فرقہ کا طرز عمل مواد اعظم اسلام کے لیے بالعموم اور ان اشخاص کے لیے بالخصوص جو بسم اللہ کے گنبدوں میں بیٹھ کر خدمتِ اسلام کے بلند بانگ و در باطن، پیچ دعاوں کے خوگر ہیں ، مشعل راہ ثابت ہو گا را نجاته بمدرد، ولی مورخه ۲۴ ستمبر ۶۱۹۲۷ اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ مولانا محمدعلی جو ہر کے نز دیک نہ صرف جماعت احمدیہ کلی طور پر مسلمانوں کی بہوری میں لگی ہوئی تھی اور مسلمانوں کی تنظیم اور جماعت کی ترقی کے لیے کوشش کر رہ ہی معنی بلکہ