تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 364
اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ بونڈری کمیشن کے سامنے پیش ہونے کی صرف ایگ یا کانگریس کو اجازت مھتی اور دوسری کوئی جماعت انہی کی اجازت سے پیش ہوسکتی تھی۔کشمیر کی جنگ میں حصہ جب پارٹیشن ہوئی اور کشمیر میں لڑائی شروع ہوئی تو احمدی جماعتہی تھی تو را منظم طور پر اس جنگ میں شرکت کے لیے گئی۔اور انہوں نے تین سال تک برابر اس محاذ کو سنبھالے رکھا جو کہ کشمیر کا سخت ترین محاذ تھائیاں تک کہ فوجی حکام کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ اس لڑائی کے لیے عرصے میں احمدی فوج نے ایک انچ زمین بھی دشمن کے ہاتھ میں نہیں جانے دی۔دیکھو اعلان کمانڈر انچیف افواج پاکستان از الفضل ۲۳ جون ۹۵) اس وقت مولانا مودودی یہ اعلان کر رہے تھے کر کشمیر کا جہاد ناجائز ہے۔د ترجمان القرآن جون ۱۹۲۸، ص۱۱۹) ہم ان کے فتوی سے متفق ہیں کہ یہ مذہبی جہاد نہ تھا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جو اپنی جان اور مال کی حفاظت کے لیے لڑتے ہوئے مارا جائے وہ بھی شہید ہے پس یہ جنگ اسلام کی تعلیم کے مطابق منع نہ تھی بلکہ پسندیدہ معنی اور یہ احراری علماء احمدیوں کی پیٹھ میں خنجر گھو پینے کی کوشش کر رہے تھے اور احمدی فوج کی بدنامی کے لیے پورا زور لگا رہے تھے۔تقسیم پنجاب کے وقت مسلمانوں سے تعاون پر گیتی تنظیم بنا کے مفادات کے گزشتہ موقعہ پہ جماعت احمدیہ نے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ جو لقا دن کیا ہے اس کے متعلق ہم مندرجہ ذیل شما ر میں اپنے حال کے مخالفین کی ہی پیش کرتے ہیں۔اخباریہ زمیندار ۱۳ اکتوبر ۹ہ کے اداریہ میں لکھتا ہے :۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مرزائیوں نے مسلمانوں کی خدمت قابل شکر یہ طریقہ پر اداکیے ۲۰ ستمبر ۲ کا اخبار زمیندار لکھتا ہے :- قادیان میں ایک لاکھ پناہ گزین موجود ہیں۔ار اکتوبر ۹۴اد کے اختبار زمیندار نے لکھا : - م کل صبح ہندوستانی فوج کے ایک بڑے افسر نے معہ تین بریگیڈیر کے قادیان کا دورہ کیا۔اس