تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 363 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 363

بہار کے فسادات سب بہار کے فسادات ہوئے اور بہت سے مسلمان مارے گئے تو قائد اعظم کی چندہ کی تحریک کا سب سے پہلے جماعت احمدیہ نے خیر مقدم کیا اور یہ پیش کیا کہ وہ اپنی تعداد کے لحاظ سے بہت زیادہ چندہ دیں گے چنانچہ انہوں نے چندہ دیا اور نصرت امام کے فن میں نیاوران نوجوانوں کان کی میں اور ان قائد اعظم کے فنڈ میں چندہ دیا بلکہ خود یہاں وفد بھیجے جو مسلمانوں کوان کی جگہوں میں بسائیں اور ان کے حقوق اُن کو دلائیں (الفضل مورخه ۴ مئی ۱۹۲۶) کشمیر کمیٹی کمنٹ جب کشمیر یوں پر ظلم ہوا تو اس وقت بھی آگے آنے والی جماعت، میر میں جماعت احمدیہ ہی تھی۔خود علامہ اقبال نے کشمیر کمیٹی کا صدر امام جماعت حمدیہ کو بنوایا دو سال تک احمدی وکیل مفت کشمیر کے مقدمے لڑتے رہے مشرق سے لے کر مغرب تک اور شمال سے لے کر جنوب تک جتنے مقدمے اُن دنوں میں مسلمانوں پر کیے گئے اور منی گرفتاریاں مسلمانوں کی ہوئیں ان میں سے پچانوے فیصد ی مقدمے احمدیوں نے لڑے اور گرفتار شدگان کی تعداد میں سے انٹی فیصدی کو رہا کیا کیا حالانکہ احمد می وکیلوں کی تعداد غیر احمدی وکیلوں کے مقابلہ میں شاید ایک فیصدی ہوگی۔رالفضل ۲۵ جون ۹۳۲ سه و الفضل ۱۲ جولائی ۳۳د والعضل ۲۴ جولائی ۱۹۳۲ و اصله الفضل ۲۳ اگست ۱۹۳۲ و الفضل ، ستمبر ۹۳۳ مرد والفضل ۱۸ ستمبر ۱۹۳۲ م ) بونڈری کمیشن برندی کیٹ کے موقع پر امام کی نظر ایوی ایشن کےسامنے میں ہونے کے لیے صرف چوہدری ظفر اللہ خاں پہ پڑی۔اور جب لیگ نے دیکھا کہ کانگریس شرارت کر کے سکھوں اور بعض اور قوموں کو آگے لارہی ہے ، یہ بتانے کے لیے کہ ساری قومیں مسلمانوں کے خلاف ہیں تو لیگ کے کہنے پر جماعت احمدیہ نے بھی اپنا وفد بونڈری کمیشن کے سامنے پیش کیا۔اور اس بات کا اظہار کیا کہ جماعت احمد یہ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔اور وہ تقاضا کرتی ہے کہ وہ ضلع جس میں ان کا سنٹر ہے وہ پاکستان میں جائے۔ضلع گورداسپور کی ساری آبادی میں مسلمان ہراہ فیصدی تھے اگر احمدی کا فر قرار دے کے اس میں سے نکال دیئے جاتے جیسا کہ احراریوں کا تقاضا تھا تو ضلع گورداسپور کی کل مسلمان آبادی چھیالیس فیصدی رہ جاتی سنتی اس ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے لیگ نے چاہا کہ احمدی وفد میپیش ہو۔اور اس ضرورت کے ماتحت احمدی و ند پیش ہوا اور اس نے صفائی سے کہہ دیا کہ ہم مسلمانوں کا حصہ ہیں اورمسلمانوں کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں