تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 360
۳۵۹ باہر ہے۔لاہور ہمارے صوبہ کا مرکز ہے۔اگر پولیس کو حکم دیا جائے۔کہ بازاروں میں سے دکانوں کی اعداد شماری کرے اور دیکھے کہ ان میں سے احمدی کہتے ہیں تو کورٹ کو معلوم ہو جائے گا کہ اس جماعت اسلامی کے لیڈر نے نشر مناک غیر اسلامی حرکت کی ہے۔مندرجہ بالا قیمتی مضمون کی روشنی میں صدر انجمن احمد یہ ریلوہ نے اپنا بیان انگریزی میں ترجمہ کراکر تحقیقاتی عدالت میں داخل کرایا۔) مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ تحقیقاتی عدالت نے صدر انجمن احمدیہ سے علاوہ سات سوالوں کے جواب کے دین اور سوانات کے جوابات طلب کئے جن کا تفصیلی ذکر اوپر آچکا ہے سیدناحضرت مصلح موعود نے ان دس سوالات کے جوابات بھی نہایت شرح وبسط سے رقم فرمائے جو داخل عدالت کیے جانے کے بعد عنوان بالا سے الشركة الاسلامیہ لمٹیڈ ربوہ نے کتابی شکل میں بھی شائع کر دیئے۔یہ جوابات بڑی تقطیع کے ۲۰۰ صفحات پر محیط ہیں۔جین میں صرف اسلام کے بنیادی نظریہ متعلق مسلم نبوت پر روشنی ڈالی گئی سے بلکہ جماعت احمدیہ کے خلاف اہم اعتراضات کی حقیقت بھی پوری شان کیساتھ نمایاں کی گئی ہے۔بطور نمونه سوالنمبر اور ۱۰ کے جوابات کے حضور کے الفاظ مبارک میں ہدیہ قارئین کیے جاتے ہیں۔سوالنمبر متعلق اعتراض عدم همدردی مسلمانان ہفتم۔یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے مسلمان حکومتوں اور مسلمان تحریکوں سے کبھی ہمدردی نہیں کی۔افسوس ہے کہ جماعت اسلامی مجلس عمل اور احرار نے اس معاملہ میں بھی غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ہمارے زمانے کی بڑی بڑی مشہور اسلامی حکومتیں ترکی عرب مصر، ایران ، افغانستان اور انڈو نیشیا ہیں۔بانی سلسلہ احمدیہ کے زمانہ میں صرف ترکی کی حکومت محقی جو مسلمانوں کے سامنے آئی تھی۔ایران تو بالکل نظر اندازہ تھا اور افغانستان ایک رنگ میں انگریزوں کے مالسخت حکومت مخفی۔بانی سلسلہ احمدیہ کے سامنے کوئی ایسی جنگ نہیں ہوئی جس میں ترکی اور یورپ کی بڑی طاقتوں کو آپس میں لڑنا پڑا ہو سوائے