تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 359
اسلام کی اس تشریح سے ثابت ہوتی ہے جو سم بیان کرتے ہیں اور میسی کو قائد اعظم بھی اپنی زندگی میں بیان کرتے رہے اور وہ یہ ہے کہ اسلامی حکومت میں کسی اقلیت یا غیر اقلیت کو کوئی خوف نہیں بلکہ تمام قوموں کے لیے کیساں آزادی اور یکساں کاروبار کے مواقع نصیب ہیں اور غیر اسلامی حکومت میں رہنے والے مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی حکومت سے تعاون اور اس کی فرمانبرداری کریں۔مودودی صاحب اپنے بیان میں یہ لکھتے ہیں کہ احمدیوں نے ملازمتوں پر قبضہ کر لیا ہے حالانکہ انہوں نے اس کا کوئی ثبوت ہم نہیں پہنچایا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گنی با تمزء كذبا أن يحدث بكل ما سَمِعَ سے جو شخص سنی سنائی بات کو پیش کر دیتا ہے۔اس کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی ثبوت کافی ہے۔یہ بات سرا سر غلط ہے۔سو فیصد غلط ہے۔لیکن اگر صحیح بھی ہو تو مازتیں بھی پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ سے ملتی ہیں اور پبلک سروس کمیشن میں آج تک ایک بھی احمدی نمبر نہیں ہوا۔نہ صوبجاتی پبلک سروس کمیشن میں اور نہ مرکزی پبلک سروس کمیشن ہیں۔اگر اسلام ساری قوموں کے حقوق کی حفاظت کا حکم دیتا ہے تو جبکہ پاکستانی حکومت امتحانوں اور انٹر ویو کے ذریعہ سے ملازم رکھتی ہے۔تو فرض کردو۔اگر کسی خکہ میں احمدی اپنی تعداد سے دس یا پندرہ یا بیس فیصدی یا پچاس فیصدی زائد بھی ہو جاتے ہیں تو یہ اعتراض کی کونسی بات ہے۔خود پاکستان کی گورنمنٹ ایک قانون بناتی ہے اور اس قانون کے بنائے ہوئے رستہ سے اگر احمدی طلبہ مینیا اور تمائشوں اور تاش اور شطر نج سے اجتناب کرتے ہوئے محنت اور کوشش سے آگے نکل جاتے ہیں تو اس کو پولیٹیکل سٹنٹ بتانے اور شور مچانے کی کیا وجہ ہے ؟ اور جھوٹ بول کر ایک کو سو بنا دینا صاف بتا تا ہے۔کہ ماہ مہب اس کا باعث نہیں۔سیاست اس کا باعث ہے کیونکہ خدا کو جھوٹ کی ضرورت نہیں۔پھر مولانا مودودی صاحب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تجارت پر احمدی قابض ہو چکے ہیں زراعت پہ احمدی قابض ہو چکے ہیں۔صنعت و حرفت پر احمدی قابض ہو چکے ہیں یہ بات بھی صراصر جھوٹ ہے۔ایک مذہبی جماعت کا لیڈر ہوتے ہوئے ، اس قدر جھوٹ سے کام لینا ہماری عقل سے الجامع الصغير للسيوطى حرت الكاف