تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 351 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 351

میں آنے کی تجویہ نہیں تھی وہ پاکستان کو مسلمانوں کے مفاد کے خلاف سمجھتے تھے۔انکی جماعت کی بنیاد سرے سے ہی سیا سی ہے اور ان کا نظریہ یہی ہے کہ جس طرح ہو حکومت پر قبضہ کیا جائے اور پھر ان کے سمجھے ہوئے اسلامی نظام کو چلایا جائے ان کے اس نظریہ کی وجہ سے دوسری پارٹیوں سے مایوس شده سیاسی آدمی ان کی طرف رجوع کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ پارٹی جو جلد سے جلد حکومت پر قبضہ کرنا چاہتی ہے اس کے ذریعہ سے ہم کو بھی رسوخ حاصل ہو جائے گا۔اور چونکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ بعد میں اسلامی نظام قائم کیا جائے گا اس لیے مذہب کی طرف مائل ہونے والے لوگ بھی ان کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ان کا انجمن اخوان المسلمین کے ساتھ متعلق بھی ظاہر کرتا ہے کہ در حقیقت ان کا مطلوب بھی سیاست ہے ان کا طریق عمل بھی بالکل اُسی رنگ کا ہے۔مثلاً اسی کمیشن کے سامنے ولانا مووی صاحب تو یہ کہتے ہیں کہ شاد تو م ہی تھا اور ان کی جماعت اسلامی یہ کہتی ہے کہ اس فساد کے موجبات سیاسی تھے۔یہ اختلاف دیانتداری کے ساتھ نہیں ہو سکتا اگر تو جماعت اسلامی پہلے ہوتی اور مولانا مودودی بعد میں اگر اس کے پریذیڈنٹ بن جاتے۔تب تو نفسیاتی طور پر اس اختلاف کو حل کیا جاسکتا تھا۔مگر حقیقت یہ ہے کہ مو از نامورودی ہی نے جماعت اسلامی بنائی ہے اور اب بھی گو انہیں ایکس امیر (Examir) کیا جاتا ہے لیکن جیلخانہ میں بھی انہی سے مشورے کیسے جاتے ہیں کیو نکمان کو مزاج شناس رسول کا درجہ دیا جاتا ہے ربیان امین احسن اصلاحی) اگر اتنا اہم اختلاف پیدا ہو گیا تھا تو یہ تعاون با ہمی کیسے جاری ہے جماعت اخوان المسلمین نے بھی مصر میں یہی طریقہ اختیار کیا ہوا ہے جنرل نجیب کے برسراقتدار آنے پر انہوں نے اعلان کر دیا کہ ان کی جماعت مذہبی جماعت ہے لیکن ایک حصہ اسے سیاسی قرار دیتا رہا اور اب ساری جماعت ہی سیاسیات میں الجھ کر مصر کی قائم شدہ حکومت جس کے ذریعہ سے اس کے لیے آزادی کا حصول ممکن ہو گیا ہے۔اس کے خلاف کھڑی ہو گئی اور جماعت اسلامی کے صدر صاحب جنرل نجیب کو نا نہیتے ہیں کہ جو الزام تم اخوان المسلمین پر لگاتے ہو وہ غلط ہے۔عجیب بات ہے کہ مصر کی حکومت مصر کے بعض لوگوں پر ایک الزام لگاتی ہے اور واقعات کی بناء پر الزام لگاتی ہے لیکن پاکستان کی جماعت اسلامی بغیر اس کے کہ ان لوگوں سے وافقت ہو بغیر اس کے کہ کام سے واقف راہ حضرت مصلح موعود نے یہاں حاشیہ میں تحریر فرمایا مر حوالہ"