تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 348
ی) جب کوئی معاملہ زیر بحث آئے تو ان کے لیے یہ کافی تھا کہ وہ اپ نہ افسروں کے ساتھ تبادلہ خیال کے بعد ودرست یا غلہ کوئی حکم دیدیں۔ان کے نزدیک اس بات کی کوئی ضرورت نہیں معنی کہ وہ یہ بھی دیکھیں کہ وہ حکم نائز بھی بجھا ہے یا نہیں۔(ج) ان کے نزدیک انصاف کا تقاضا اس سے پورا ہو جاتا تھا کہ اگر ظالم و مظلوم دونوں کو ایک کشتی میں سوار کر دیا جائے اور اس طرح دنیا پر ظاہر کیا جائے کہ وہ سب قسم کے لوگوں کو ایک آنکھ سے دیکھتے ہیں اور یہی کیفیت ہم کو لاہور کے انتظامیہ حکام میں نظر آتی ہے اور یہیں فساد سب سے زیادہ ہوا ہے گواہیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت لاہور میں جو ذمہ دار افسر تھا۔اس کے نزدیک بھی اور پہر کے ہی اصولی قابل عمل تھے اور انہی یہ وہ عمل کرتا رہا ہے۔شاید جرمنی کے مشہور چانسلر پرینس بسمارک کا بہ قول ہے کہ افسر اس لیے مقرر کیے جاتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کا مانحت عملہ قواعد اور حکام کی پابندی کرتا ہے مگران شہادتوں کے پڑھنے سے ہمیں یہ علوم ہوتا ہے کہ افسر اس لیے مقرر کیے جاتے ہیں کہ وہ ایک فیصلہ کر یں اور پھر کبھی نہ دیکھیں کہ اس پر عمل ہوا ہے یا پہلے مقرر کیے جاتے ہیں کہ وہ اس انتظار میں رہیں کہ ان کے ماتحت افسر کوئی کارروائی کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔اگر وہ کارروائی کرنا چا ہیں۔تو پھر مناسب طور پر وہ اس کا روائی کو بستہ ہیں پیسٹ دینے کی کوشش کریں اور اگر وہ کوئی کارروائی نہ کروانا چاہیں تو وہ اس انتظار میں رہیں کہ کبھی وہ عمل کی طرف متوجہ ہوں گے یا نہیں۔جہاں تک ہمار می عقل کام دینی ہے دنیا کی ادنیٰ سے ادنی حکومت بھی ان اصول کے ماتحت نہیں مل سکتی۔پس ہمارے نزدیک حکومت کی بے حسی اور عدم توجہی اور عدم تنظیم ان فسادات کی ذمہ وار ہے۔لیکن اصل :مہ داری ان لوگوں پر آتی ہے جو کرا اپنے ارادوں کو ظاہر کر تے تھے لوگوں کو فساد کے لیے اکساتے تھے اور اس بارہ میں تنظیم کر رہے تھے۔یہ کہد بنا کہ کوئی شخص ایسے الفاظ نہیں بولتا تھا۔جن سے وہ قانون کی زد میں آئے درست نہیں۔کیونکہ اول تو اخباروں کے کٹنگز اور تقریروں کے حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے الفاظ بولے جاتے تھے۔دوسرے ایسے واقع پر یہ نہیں دیکھا جاتا۔کہ الفاظ کیا بولے جاتے تھے۔دیکھ یہ جانتا ہے کہ کس ماحول میں وہ بولے جاتے تھے اور کیا زمینیت وہ لوگوں کے دلوں میں پیدا کرتے تھے۔اگر حضرت مصلح و تو یہاں سورہ کے حاشی میں تھی کے دوران لکھا۔بعض حوالہ جات