تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 341 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 341

۳۴۰ ہے وہ کہتے ہیں کہ وہ اس طرح ہم پر جادو کر تی ہے حقیقہ نکاح کا مسلہ ایک سوشل قسم کا مسئلہ ایسے سائل میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ لڑکی کو کہاں آرام رہے گا اور کہاں اسے مذہبی امور میں ضمیر کی آزادی ہوگی اور اس پر نا جائزہ دباؤ تو نہیں ڈالا جائے گا میں سے اس کے عقائد دینیہ خطرے میں پڑ جائیں لیکن باوجود در نفت کے اگر کوئی احمدی اپنی لڑکی کا نکاح غیر احمدی مرد سے کر دے تو اس کے نکاح کو کالعدم قرار نہیں دیا جاتا۔پھر یہ عرض کر دینا بھی ضروری ہے کہ رشتہ ناطہ کے مسئلہ میں بھی ہماری جماعت اپنے طرز عمل میں منفرد نہیں بلکہ مسلمانوں کے دوسرے فرقے اور جماعتیں بھی اس طرفہ عمل کو اختیار کیے ہوئے ہیں بلکہ بعض تو آپس میں ایسی شدت اختیار کر چکے ہیں وہ دوسرے کے آدمی سے ازدواجی تعلق کو حرام اور اولاد کو ناجائز قرار دیتے ہیں چنانچہ اہلسنت والجماعت شیعہ اثنا عشریہ سے مناکحت کو حرام قرار دیا ہے:۔(1) علماء دیوبند اور علماء اہلحدیث کا فتوے ملاحظہ ہو :- دستی لڑکی شیعہ کے گھر پہنچتے ہی طرح طرح کے ظلم وستم کا نشانہ بن کر مجبور ہو جاتی ہے کہ شیعہ ہوجائے یہ خرابی علاوہ اس ارتکاب حرام کے ہے جو نا جائز نکاح کے سبب ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔لہذا شیعوں کے ساتھ مناکحت قطع نا جائزہ انکا ذبیحہ حرام۔ان کا چندہ مسجد میں لینانا روا ہے ان کا جنازہ پڑھنا یا ان کو جنازہ میں شریک کرنا جائزہ نہیں۔ملاحظہ ہو علمائے کرام کا فتوی در باب ارتداد شیعہ اثنا عشریہ شائع کردہ مولانامحمدعبد الشکور صامدير النجم السلام اب نیز بعد یلوی فرقہ میں کے ساتھہ مولانا ابو الحسنات صاحب صدر مجلس عمل کا تعلق ہے کے نزدیک بھی شیعہ سے مناکحت او زنا سے مترادف ہے چنانچہ برقر الرفضہ میں لکھا ہے، بالجملہ ان رافضیوں تبرائیوں کے باب میں حکم یقینی قطعی اجماعی یہ ہے کہ وہ علی العموم کفار مرتدین ہیں ان کے ہاتھ کا ذبیجہ مردار ہے ان کے ساتھ مناکحت نہ صرف حرام بلکہ خالص زنا ہے اگر مردوستی اور عورت ان خبیثوں ہی کی ہو جب بھی ہرگز نکاح نہ ہوگا۔محض زنا ہو گا اور اولاد ولد البہ نا " ہو گی یہ درو الرفضہ تصنیف حضرت مولانا احمد رضاخان صاحب بریلوی مطبوعه ۱۳۳ھ ما) ہم نہایت ادب سے عرض کرتے ہیں کہ کہ اس فتوی میں حضر مولانا احمدرضا خانصاحب بانی فرقہ بریلویہ کا ہے شور حضرات کو نہ صرف کا فرقرار دیا گیا ہے بلکہ ہیوریوں اور عیسائیوں سے بھ بد تر قرار دیا گیا ہے کیونکہ قرآن مجید کی سو سے کتابیہ عورت کیساتھ مسلم مرد کا نکاح جائز ہے لیکن صحت کودا احمدرضا خاتما کے نزدیک شیر موت کیا تو سٹی مڑ کا کام تھا مرام احمد نا جائز ہے۔