تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 328
تبدیل ہوا ہے باپ سے بیٹے اور بیٹے سے پوتے کو میں مسلمان کا نام ملتا چلا آرہا ہے۔ر مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکس جمعه سوم بار ششم صفحه ۱۰۵/ ۱۰۶) اسی طرح موجودہ دور کے مسلمانوں کے متعلق اہلحدیث کا خیال بھی ملاحظہ فرما یا جاوے۔نواب صدیق حسن خال صاحب بھوپالوی اپنی کتاب اقتراب الساعۃ کے صفحہ پر تخریبہ فرماتے ہیں۔اب اسلام کا صرف نام۔قرآن کا فقط نقش باقی رہ گیا ہے۔مسجدیں ظاہر میں تو آباد ہیں لیکن ہدایت سے بالکل ویران ہیں۔علماء اس امت کے بدتمان کے ہیں جو نیچے آسمان کے ہیں۔انہی میں سے فتنے نکلتے ہیں انہی کے اندر پھر کر جاتے ہیں۔(اقتراب الساعة ص۱۲) پھر جناب علامہ ڈاکٹر سر محمداقبال نے موجودہ مسلمانوں کے متعلق اپنا خیال ان اشعار میں بیان فرمایا ہے کہ : سے مشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں سلم موجود و منع میں تم ہو نصار کی تو تمدن میں ہنود یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغاں بھی مور تم سبھی کچھ ہو تاؤ تو مسلمان بھی ہو ؟ ر بانگ درا ایڈیشن د واز و هم ص۲۲۶ جواب شکوه) پھر صرف نام کے طور پر اسلام کے باقی رہنے کے متعلق مولانا حالی کا یہ شعر بھی ملاحظہ فرمایا جا سے ہے رها دین باقی نہ اسلام باقی اک اسلام کا رہ گیا نام باقی ر مسدس حالی مطبوعہ تاج کمپنی ص۲۶) پھر سید عطاء اللہ صاحب بخاری کمیونزم اور اسلام کا مقابلہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے متعلق سب ذیل بیان دیتے ہیں :- مقابلہ توتی ہو کہ اسلام کہیں موجود بھی ہو۔ہمارا اسلام ! ہم نے اسلام کے نام پر جو کچھ اختیار کر رکھا ہے وہ تو صریح کفر ہے۔ہمارے دل دین کی محبت سے عاری۔ہماری آنکھیں بصیرت۔نا آشنا اور کان سچی بات سننے سے گریزاں سے بید لی ہائے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق بیکسی ہائے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں ہمارا اسلام ؟ سے