تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 327 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 327

رَبِّ أَصْلِمُ أُمَّةً مُحَمَّدٍ" تحفه بغداد صفحه ۲۳ مطبوعه ۵۱۳۱۱) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنی تمام کتابوں میں ان تمام مسلمانوں کو جو آپ کی جماعت میں داخل نہیں مسلمان کہ کر ہی خطاب کیا ہے کیونکہ وہ اسلام کی عمومی تعریف کے مطابق کلمہ طیبہ پر ایمان لانے کا اقرار کرتے ہیں۔اسی طرح موجودہ امام جماعت احمد یہ بھی اُن کو سلمان کے لفظ سے خطاب کرتے ہیں۔رسلاً ملاحظہ ہو الفضل 19 مئی 19ء والفضل ١٨ ستمبر ۲ و غيره) ہاں آنحضرت صلعم نے بھی فرمایا ہے "یاتی علی الناس زمان لا يبقى من الاسلام إلا اسمه (مشکوۃ کتاب العلم، یعنی لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اسلام کا صرف نام رہ جائے گا۔یہ حدیث اسی زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتی ہے چنانچہ جماعت اسلامی کے امیر مولانا ابوالاعلیٰ صاحب مودودی بھی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو جو ان کی جماعت میں شامل نہیں ہیں صرف رسمی اور اسمی مسلمان قرار دیتے ہیں چنانچہ وہ مسلمانوں کی دو قسمیں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔دنیا میں جومسلمان پائے گئے ہیں یا آج پائے جاتے ہیں ان سب کو دو حصوں میں منقسم کیا جاسکتا ہے ایک قسم کے مسلمان وہ جوخدا اور رسول کا اقرار کر کے اسلام کو بحیثیت اپنے مذہب کے مان لیں مگر اپنے اس مذہب کو اپنی کھلی زندگی کا محض ایک جز داور ایک شعبہ ہی بنا کر رکھیں اس مخصوص جز د اور شعبے میں تو اسلام کے ساتھ عقیدت ہو۔لیکن فی الواقعہ ان کو اسلام سے کوئی علاقہ نہ ہو۔دوسری قسم کے مسلمان وہ ہیں جو اپنی پوری شخصیت کو اور اپنے سارے وجود کو اسلام کے اندر پوری طرح دے دیں۔ان کی ساری حیثیتیں ان کے مسلمان ہونے کی حیثیت میں گم ہو جائیں۔۔۔پیرو سم کے مسلمان حقیقت میں انکل ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔چاہے قانونی حیثیت سے دونوں پر لفظ مسلمان کا اطلاق یکساں ہو " در ساله موسومه به و داد جماعت اسلامی حصہ سوم صفحه ۷۸ تا ۸۰) ایک اور مقام پر فرماتے ہیں :- یہ انبوہ عظیم میں کومسلمان قوم کہا جاتا ہے اس کا حال یہ ہے کہ اس کے 999 فی ہزار افراد نہ اسلام کا علم رکھتے ہیں نہ حق و باطل کی تمیز سے آشنا ہیں نہان کا اخلاقی نقطۂ نظر اور ذہنی رویہ اسلام کے مطابق سے ملاحظہ ہور سالہ پیغام ملا مصنفہ مئی مشتله صدا، ۱۷ ۱۸ مطبوعه ۱۳ بار دوم به