تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 326 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 326

۳۲۵ کے مطابق امت محمدیہ کا ہر فر مسلم کہلانے کا سختی ہے۔اس تعریف کی تاکید اس حدیث صحیح سے بھی ہوتی ہے كه من صلى صلواتنا واستقبل قبلتنا واهل ذبيحتنا نذالك المسلم الذي ذمة الله وذمة رسوله ربخاری بحوالہ مشکوة کتاب الایمان ملا مطبع اصبح المطابع یعنی جو شخص بھی ہمارے قبلہ ویعنی کعبہ کی طرف منہ کر کے مسلمانوں کی سی نماز پڑھے اور مسلمانوں کا ذبیحہ کھائے پس وہ مسلمان ہے جس کو خدا اور اس کے رسول کی حفاظت حاصل ہے: باقی رہا مومن، سوکسی کو مومن قرار دینا درحقیقت صرف خداتعالی کا کام ہے۔عام اصطلاح میں مسلم اور مومن ایک معنوں میں استعمال ہو جاتے ہیں لیکن در حقیقت " مومن" خاص ہے اور مسلم ، عام۔پس ہر مومن مسلم ، ضرور ہو گا لیکن ہرمسلم کا مومن ہونا ضروری نہیں۔مندرجہ بالا تشریح کے مطابق جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتا ہے اور آپ کی "امت" میں سے ہونے کا اقرار کرتا ہے وہ اپنے کسی عقیدہ یا عمل کی دانستہ یا نادانستہ غلطی کی وجہ سے اس نام سے محروم نہیں ہوسکتا۔ظاہر ہے کہ اس تشریح کے مطابق اور قرآن کریم کی آیت ھو شمکہ المسلمین کے تحت کسی شخص کو حضرت بائی سلسلہ احمدیہ کو نہ ماننے کی وجہ سے غیرمسلم نہیں کہا جاسکتا۔ممکن ہے ہماری بعض سابقہ تحریرات سے غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے اس سے متعلق ہم کہہ دینا چاہتے ہیں کہ ہماری ان بعض سابقہ تحریرات میں جو اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں وہ ہماری مخصوص ہیں۔عام محاورہ کو جومسلمانوں میں رائج ہے استعمال نہیں کیا گیا۔کیونکہ ہم نے اس مسئلہ پر یہ کتا میں غیر احمدیوں کو مخاطب کر کے شائع نہیں کیں بلکہ ہماری یہ تحریرات جماعت کے ایک حصہ کو مخاطب کر کے لکھی گئی ہیں اس لیے ان تحریرات میں ان اصطلاحات کو مد نظر رکھنا ضروری نہیں تھا جو دوسرے مسلمانوں میں رائج ہیں۔ہمارے اس عقیدہ کی تائید کی کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کونہ مانے والا مسلمان مسلمان ہی کہلائے گا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے الہامات سے بھی ہوتی ہے چنانچہ ملاحظہ ہو آپ کا الہام ر مسلمان را مسلمان یا نه کردند (حقیقة الوحی مثنا مطبوعه له) یعنی آپ کی بعثت کی عرض مسلمانوں کو حقیقی مسلمان بنانا ہے ایک دوسرے الہام میں خدا تھانے نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو یہ دعا سکھلائی ہے :۔