تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 320
۳۱۹ ان واقعات سے جمع کریں جو مولوی دوست محمد صاحب کے پاس تھے۔یہ احتیاط سے کام کرنے چاہئیں ہمارے لیے موت اور زندگی کا سوال ہے۔یہ روز نامہ آفاق “ لاہور کی ۶ اگست ۱۹۵۳ء کی تحقیقاتی عدالت کی ابتدائی کارروائی اشاعت میں لکھا ہے :- پنجاب میں۔ورقادیانیت کی تحریک کے سلسلہ میں حالیہ فسادات کی تحقیقات کرنے والا کمیشن ختم نبوت کے متعلق عقائد کا اختلاف معلوم کرنے کے لیے قادیانی فرقہ اور مسلمانوں کی مختلف جماعتوں کے سترہ ممتاز علماء کے بیانات کمیشن کے لاہور کے اجلاس میں بند کمرہ میں قلمبند کرے گا تحقیقاتی عدالت نے سات سوالوں پر مشتمل ایک سوال نامہ صدر انجمن احمد یہ ربوہ کے نام جاری کیا ہے۔اور انہیں ہدایت کی گئی ہے۔کہ وہ جماعت احمدیہ کے عقائد کے حوالہ سے اور فرقہ احمدیہ کے سربراہ سے مشورہ کے بعد سترہ اگست تک ان سوالات کے جواب پیش کریں تحقیقاتی عدالت نے آج کے اجلاس میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو حکم دیا ہے کہ مارشل لا کے دوران میں خاص فوجی عدالتوں نے مولانا اختر علی خان مولانا ابوالعلیٰ مودودی مولانا عبد الستار نیازی اور مسٹر احمد سعید کرمانی کے خلاف مقدمات میں جو احکامات اور فیصلہ صادر کیسے تھے۔ان کی مصدقہ نقول عدالت میں پیش کی جائیں۔تحقیقاتی عدالت نے جو چیف جسٹس مسٹر محمد منیر اور مسٹر جسٹس ایم آر کیانی پرشت تمل ہے مسٹر عبدالعزیز خاں ایڈووکیٹ جنرل کو مزید حکم دیا ہے کہ رو قادیانیت کی تحریک اور حالیہ فسادات کے متعلق اگر پنجاب کے محکمہ تعلقات عامہ میں کوئی فائل رکھی گئی ہو۔تو وہ بھی عدالت میں پیش کی جائے۔عدالت نے صد بر انجمن احمدیہ یہ بوہ کی جانب سے مسٹر بشیر احمد در جماعت اسلامی کی جانب سے مسٹر مہندر سن صدیقی کو اجازت دے دی ہے۔کہ وہ مطلوبہ دستاویزات کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔سین سنترہ علماء کے بیانات قلمبند کیے جائیں گے ان کے نام یہ ہیں۔مولانا ابو العلیٰ مودودی امیر جماعت اسلامی مولانا عطا اللہ شاہ بخاری مجلس احرار - مولانا ابو الحسنات سید محمد احمد قادری صدر جمعیت علمائے پاکستان، مولانا داؤ د غزنوی اہل حدیث مولانامحمد ذاکر تنظیم اہل سنت