تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 317 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 317

تک مرکزہ ہماری اس بات میں راہ نمائی نہ کرے ہم کچھ نہیں کر سکتے Laws order صوبوں سے متعلق ہیں راسی سلسلہ میں دولتانہ صاحب سے جو وعدہ ملا تھا اس کی باتیں بھی نوٹ کی جائیں) راولپنڈی میں جو قتل ہوا۔قاتل نے شروع میں یہ بیان دیا کہ مولویوں نے جو تقریریں کی تھیں اس کے نتیجہ میں میں نے مارا ہے لیکن پولیس نے اس بیان کو حذف کر دیا اور اس کو ذاتی جھگڑے کی شکل دینی چاہی ایک دوسرا پولیس افسر بیان کے وقت چوکی پر موجود تھا افسران بالا کو توجہ دلانے پر اس کا بیان لیا گیا اور اس نے سچی بات بتادی گر پھر بھی یہ بیان شامل نہ کیا گیا جب سپر نٹنڈنٹ پولیس کو مل کر اس طرف توجہ بلائی گئی تو انہوں نے یہ جواب دیا کہ آپ کے قائدے کے لیے ہم نے اس بیان کو حذرت کر دیا اس سے شور پڑے گا اور آپ کے خلاف ایجی ٹیشن بڑھے گی۔یہاں ہم نے انسپکٹر جنرل صاحب پولیس کو اپنی رپورٹ میں یہ بات لکھ دی ہے۔اوکاڑہ میں ڈپٹی کمشنر اور سپر نٹنڈنٹ پولیس نے اور لائلپور میں سپرنٹنڈنٹ پولیس نے عوام سے گلے میں ہار ڈلوائے اور وہی نعرے لگائے جو پبلک لگائی تھی۔اسی طرح بعض اور لوگوں کے متعلق بھی رپورٹیں ملی ہیں۔ڈسکہ ضلع سیالکوٹ میں چو ہدری مسعود احمد جو وہاں کی ایک نہایت ہی معنرنہ فیملی کا ممبر ہے انہی فسادات کے سلسلہ میں تھانیدار نے اس کو بلا کر ذلیل کیا اور با وجود اس کے گھر پر مظاہر ہ ہونے کے اس کی کسی قسم کی مدونہ کی اسی طرح یعنی ایسے احمدیوں کو پکڑوایا اور دھمکیاں دیں جو اپنی جگہ پر اکیلے دکیلے تھے اور کسی قسم کا زور ان کا نہیں تھا۔جب مرکزہ احمدیہ کی طرف سے آئی جی پولیس میاں انور علی صاحب کو اس کے متعلق شکایت کی گئی تو صرف یہ کارروائی ہوئی کہ ایک احمدی فوجی افسر جو ڈسکہ سے گزرتے ہوئے چوہدری مسعود احمد صاحب سے ملا تھا اور اس نے اسے تسلی وی معنی کہ گھبرانے کی بات نہیں یہ دن گزر جائیں گے۔اس کے خلاف پولیس نے فوج میں رپورٹ کی۔اور لوگوں سے تاریں بھی دلوائیں کہ اس فوجی افسر نے بڑا اشتعال دلایا ہے اور بڑا اسلحہ بھی مسعود کو دیا ہے چنانچہ وہ فوجی افسر اپنے عہدہ سے معطل کیا گیا اور اس کے خلاف انکوائری کی گئی۔تب ہم نے سمجھ لیا کہ آئی۔میں کو کسی قسم کی شکائت کر تا نقصان دہ ہے اس کا نتیجہ نیک نہیں نکل سکتا۔آئی جی صاحب کے پاس سپرنٹنڈنٹ گوجرانوالہ کی بھی شکائت کی گئی تھی اور اس کا نتیجہ بھی یہی نکلا تھا کہ اس کے بعد سختی بڑھ گئی تھی۔جماعت مودودی نے قادیانی مسئلہ" کے نام سے ایک کتاب شائع کی جو کسی نہ بانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے اور کئی لاکھ شائع ہو چکی ہے۔لیکن حکومت پنجاب نے فوراً بی نام