تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 315 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 315

۳۱۴ کے وفد جب حکومت کے افسروں سے ملے تو انہوں نے بتایا کہ ہم کو ایک طرف یہ اختیارات دیئے گئے ہیں دوسری طرف ہم کو مؤثر قدم اٹھانے سے روکا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیفٹی ایکٹ کو استعمال نہیں کرتا جو ۱۴۴ دفعہ توڑے اگر مناسب ہو تو اس کے خلاف قدم اٹھانا ہے۔چند دنوں کے بعد ہی اس ہدایت کو واپس لے لیا گیا اور دولتانہ صاحب نے اعلان کیا کہ ہم نے ایسی کوئی ہدایت نہیں دی تھی جو قدم اٹھایا ہے ضلع کے افسروں نے اپنی ذمہ داری سے اٹھایا ہے ریہ تقریر چھپی ہوئی سے تلاش کریں، چنانچہ فوراً سب لوگ چھوڑ دیئے گئے اور شورش پھر تیز ہونی شروع ہو گئی جب افسران ضلع کو پھر توجہ دلائی گئی تو بعض افسران نے تو یہ کہ کر ٹال دیا کہ کوئی شور وغیرہ نہیں ہے۔آپ کو وہم ہے۔ضلع گور با انوالہ کے م۔s نے صاف لفظوں میں ہمارے وفد سے کہا کہ شورش ہے لیکن ہم کچھ کرنے کو تیار نہیں ہم نے جب امن قائم کرنا چاہا تو ہم کو پبلک کی نظروں میں ذلیل کر دیا اور علی الاعلان حکومت نے پردے پر دے میں نہیں Condemnd کیا اب جو کچھ کہنا ہے جاکر پنجاب حکومت سے کہو ہم کچھ کرنے کو تیار نہیں اور آخر میں یہاں تک کہا کہ بے شک جا کر میرا نام نے دو کہ میں نے یہ بات کہی ہے۔بعض افسروں نے یہاں تک کہا کہ ہمیں پو لیس کے محکمہ سے ہدایت آئی ہے کہ گورنمنٹ نے پولیس کو بدنام کیا ہے آئندہ ایسے مواقع سے پولیس کو الگ رکھو۔اس سپر نٹنڈنٹ کی ملاقات کے بعد ہمارا وفد مچھر چیف سیکر ٹڑی سے ملا اور ان کو بتایا کہ پولیس کی یہ روایت ہے اور ڈپٹی کمشنر احرار کے ساتھ تعلق رکھتا ہے وہ دو دو گھنٹے اس کے پاس بیٹھے رہتے ہیں اور جب ہماراد قد جاتا ہے تو اس کو ملنے سے انکار کر دیتا ہے۔چیف سیکر ٹری نے یہی کہا کہ ہماری اطلاعات یہی ہیں کہ فساد کو ئی نہیں ہو گا آپ کو یونہی دہم ہو رہا ہے اور ہم ڈپٹی کمشنر سے کہ دیں گے کہ وہ آپ کے وفد سے بھی ملا کر سے اور احرار سے اس طرح کے بے تکلفانہ تعلقات نہ یہ کھا کرے بلکہ ہم سارے اضلاع میں ایسی ہدایات بھیجوا دیں گے لیکن بعدمیں گوجرانوالہ سے بھی معلوم ہوا کہ نہ وہاں کوئی ہدایت دی گئی اور نہ ڈپٹی کمشن کو بلکہ الجھایا گیا اور نہ اور کسی ضلع میں ہدایت دی گئی ہے۔چنانچہ اس ضلع میں شدید فساد ہوا اور لوگوں کو مجبور کر کے احمدیت سے پھر جانے کا اعلان کروایا گیا گو اب وہ سب واپس آچکے ہیں سوائے ایک کے جو معافی مانگ رہا ہے مگر ابھی تک جماعت نے اسے معاف نہیں کیا۔سپرنٹنڈنٹ پولیس گوجرانوالہ نے جو کچھ کہا تھا اس کے مطابق عمل کیا تمام فسادات کے دوران میں کسی قسم کا کوئی علاج نہیں کیا کسی احمدی کی حفاظت نہیں کی اور گویا