تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 300
۲۹۹ میں حضور سرور کائنات اور صحابہ اجمعین کے روضے بھی آتے ہیں۔پھر اس فرقہ کو کسی طرح مسلمان شمار کیا جا سکتا ہے ، پس مسلمانوں کی مکمل تطہیر اس وقت ہو گی جبب احمدی شیعہ ، المجدیہ تینوں " فرقے غیر اسلامی اقلیتیں بنا دی جائیں گی۔لیکن اس کام کی ابتداء احمدیوں سے ہونی چاہیئے “ مولا نا علم الدین سالک فرمانے لگے کہ مولوی صاحب کی گفتگو جب اس مقام پر پہنچی تو مجھے خیال آیا که دیو بندی فرقہ نے بڑے بڑے جید علماء پیدا کیے جنہوں نے اسلام کی عظمت کو چار چاند لگائے اور اب بھی اس کے ایسے علماء موجود ہیں یہ مولوی صاحب خود بھی دیو بندی ہیں۔مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ ایک دوسرے دیو بندی مولوی صاحب سے ان کی شہر یہ دشمنی ہے اس لیے میں مولوی صاحب سے کہا : غالباً آپ نے مسلمانوں کے تمام عقائد پر غور نہیں کیا ورنہ شائد آپ بریلوی فرقہ کو بھی غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے حق میں ہوتے۔خیر اس بات کو چھوڑیئے۔آپ یہ فرمائیں کہ فلاں دیوبندی) مولوی صاحب کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے کیا وہ اس قابل ہیں کہ ان کو مسلمانوں کے زمرہ میں رہنے دیا جائے کئے اس پر مولوی صاحب بہت جبر نہ ہوئے اور فرمایا۔اس مولوی میں ایمان کا یکسر فقدان ہے۔اس سے بھی نپٹ لیں گے مگر سب کے بعد۔بات اس وقت احمدیوں کی ہورہی ہے۔آپ اُن کے خلاف گواہی دیجیے اور ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دلا کر مسلمانوں کی تطہیر کا آغانہ کر دیجیئے۔اللہ آپ کو جزائے خیر دے گائے مولا نا علم الدین سالک فرمانے لگے ہیں نے مولوی صاحب کی گفتگو سے دو نتیجے اخذ کئے۔ا۔عقائد کی بنا پر مسلمانوں کے کسی فرقہ کو بھی آئینی طور پر غیر مسلم قرار دے دیا گیا تو تخریب اسلام کی یہ ابتداء ہو گی۔آئندہ مختلف موقعوں پر کوئی اسلامی فرقہ اس قسم کی انتقامی کارروائی سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔جس سے عالم اسلام انتشار کا شکار ہوکر رہ جائے گا۔۔اس سلسلہ میں سب سے پہلا وار احمد یوں پر ہے۔اس لیے احمدی فرقہ دوسرے فرقوں بالخصوص شیعہ اور اہل حدیث کے درمیان ایک بفرسٹیٹ (Buffer State) کی حیثیت رکھتا ہے۔احمدی مغلوب ہو گئے اور ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔تو اس کے بعد