تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 301 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 301

٣٠٠ دوسرے دو فرقوں کی شامت آنا ضروری ہے۔چنانچہ میں نے مولوی صاحب سے معذرت کر دی کہ میں گواہ کے طور پر پیش نہیں ہو سکتا۔اس منفی کام میں مجھے علیحدہ ہی رہنے دیجئے اس انکل اس قسم کا ایک واقعہ جناب ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم ایم۔اے۔پی۔ایک۔ڈی نے اپنے رسالہ اقبال اور ملا ، میں درج کیا ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں:۔پاکستان کی ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے مجھ سے حال ہی میں بیان کیا کہ ایک ٹلائے اعظم اور عالم مقتدر سے جو کچھ عرصہ ہوا بہت تذبذب اور سوچ بچار کے بعد ہجرت کر کے پاکستان آگئے ہیں میں نے ایک اسلامی فرقے کے متعلق دریافت کیا۔انہوں نے فتویٰ دیا کہ ان میں جو عالی ہیں وہ واجب القتل ہیں اور جو غالی نہیں وہ واجب التعزیہ ہیں۔ایک اور فرقے کی نسبت پوچھا جس میں کروڑ پتی تاجر بہت ہیں فرمایا کہ وہ سب واجب القتل ہیں۔یہی عالم اُن تئیس بنیس معلماء میں پیش پیش اور کرتا دہر تا تھے جنہوں نے اپنے اسلامی مجوزہ دستور میں یہ لازمی قرار دیا کہ ہر اسلامی فرقے کو تسلیم کر لیا جا سوائے ایک کے جس کو اسلام سے خارج سمجھا جائے۔ہیں تو وہ بھی واجب القتل ، مگر اس وقت علی الاعلان کہنے کی بات نہیں موقع آئے گا تو دیکھا جائیگا انہیں میں سے ایک دوسرے سربراہ عالم دین نے فرمایا کہ ابھی تو ہم نے جھاد فی سبیل اللہ ایک فرقے کے خلاف شروع کیا ہے اس میں کامیابی کے بعد انشاء اللہ دوسروں کی خبر لی جائے گی کیا ہے صدر انجن احمد به پاکستان نے معاملہ کی نزاکت واہمیت کے پیش نظر لاہور میں ذیلی دفتر کا قیام اسی بشیر احمد صاحب ریڈ وکیٹ کو مٹی واقعی میں موڈ ہے) بھٹی ٹمپل لاہور) کے اندر ایک دفتر قائم کر دیا۔ان دنوں قمر الا نبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ناظر اعلی تھے اور حضرت مصلح موعود نے تحقیقاتی عدالت سے متعلقہ امور کی نگرانی آپ ہی کے سپرد فرمار کھی سے رسالہ انقلاب نو“۔لاہور۔جلد مبرم شمارہ نمبر ہے ص نمبر ۳۳ یکم اپریل تا اور اپریل ۱۹۶۳ء ه اقبال اور ملا ابيع مضتم ص ۱۸ - ۱۹ نانر بزم اقبال، زمینگھ دراس گارڈن ، کلب روڈ ، لاہور۔