تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 298 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 298

نازک مرحلہ یہ محلہ کئی اعتبار سے فسادات کے ایام سے بھی بڑھ کر نانک بلکہ حضرت مصلح یہ موعود کے الفاظ میں جماعت احمدیہ کے لیے موت اور زندگی کا سوال ہے تھا۔جب کے دو پہلو ابتداء ہی میں تشویش پیدا کر رہے تھے :۔اول : تحقیقاتی عدالت کے اعلان سے معلوم ہوتا تھا کہ دو اس تحقیقات کا مقصد اس سے زیادہ سمجھتی ہے جتنا کہ حکومت کے ابتدائی اعلان سے ظاہر ہوتا تھا اور اس نوعیت کی تحقیقات میں یہ زبر دست خطرہ تھا کہ بعض لوگ حقائق کو بگاڑ کر اس انکوائر می کو مذ ہبی اختلافات اچھالنے کا موجب ہی نہ بنا دیں۔خصوصاً جبکہ یہ دونوں فاضل جج صاحبان اپنے مسلک کے اعتبار سے احمدیت سے اختلاف رکھتے تھے۔دوم : عوام میں علماء نے ایک خاص منصوبے کے تحت جماعت احمدیہ کے خلاف بغض و عناد کا زہر بھر دیا تھا۔اور مارشل لاء میں ماخوذ علماء اور زعماء کی نظر بندی کو احمدیت کے خلا نفرت اور اشتعال پیدا کرنے کا ایک ذریعہ بنا لیا گیا اور تمام جماعتیں اس روح کے ساتھ مجمع ہو گئیں کہ تحقیقاتی عدالت میں احمدیوں کو فسادات کا ذمہ دار مظہر کہ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دلوا دیا جائے۔چنانچہ جناب سید بنز دانی جالندھری کا بیان ہے کہ:۔مارچ ۱۹۵۳ء میں لاہور میں احمدیوں کے خلاف فرقہ وار فساد ہوا۔۔۔۔۔۔۔احمدیوں کے خلاف فرقہ ور ضاد تو مارشل لاء نے چند لمحوں میں ختم کر دیا۔جہاں تک آئندہ کا تعلق تھا مستقبل قریب میں کوئی نیا فرقہ دار فساد کی اسکن ان کو نا ممکن نظر آرہا تھا۔اس لیے کچھ منفی طبع مولوی بہت پریشان تھے۔اور اسی قسم کے نئے امکانات پیدا کرنے کی سوچ رہے تھے کہ اتنے میں خبر آئی کہ حکومت نے احمدیوں کے خلاف یہ پا شدہ فسادات کی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے دو حج منیر انکوائری کمیٹی کے نام سے مقرر کر دیئے ہیں جن کے سامنے ہر مکتب فکر کے مولویوں کو اپنا نقطہ نگاہ پیش کرنے کی عام اجازت ہو گی۔اس سے انہوں نے یہ سمجھے کہ کہ اب احمدیوں کو دائرہ اسلام سے آئینی طور پر خارج قرار دلانے کا موقع ہاتھ آگیا ہے۔کچھ مولویوں نے خود اپنے درمیان کتوب اور اصلی مور نام مرا بزانی مرزا بشیراحمد صاحب موصوله در جولائی ۱۹۵۳ء