تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 295
۲۹۴ پہلا باب فسادات پنجاب کی تحقیق کیلئے عدالت کا قیام گورنر ناب جناب میں مین این مصیب انے اور جوان سوار کو یک ترور نیس جاری کیا جس کے تحت فسادات پنجاب کی تحقیقات کے لیے ایک عدالت قائم کی۔اور چیف بستی محمد منیر اور جسٹس ایم۔آر کیانی کو اس کا میر مقرر کیا گیا۔اور ہدایت کی گئی کہ وہ مندرجہ ذیل امور کی چھان بین کریں : - ا۔وہ کیا کو الف تھے جن کی وجہ سے 14 مارچ ۹ہ کو لاہورمیں مارشل لا ء کا اعلان کرنا پڑا۔۲- فسادات کی ذمہ داری کس پر ہے ؟ صوبے کے سول حکام نے فسادات کے حفظ ما تقدم یا تدارک کے لیے جو تدابیر اختیا رکیں ، آیا وہ کافی مخفیں یا نا کافی ؟ عدالت نے اپنے دائرہ تحقیقات میں شروع میں ہی غیر معمولی وسعت پیدا کر لی اور حکومت پنجاب صور سلم لیگ مجلس احرار، مجلس عمل اور جماعت اسلامی کے علاوہ صدر انجمن احمد یہ ربوہ ! اور احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کو بھی کارروائی عدالت میں فریق بنا لیا۔اور ہدایت کی کہ وہ تحقیقات کے دائرہ شرائط کے متعلق تحریری بیانات داخل کریں جن میں اپنے اپنے خیالات کا اظہار کریں۔تحقیقاتی عدالت نے دوران تحقیقات متعلقہ اداروں سے مندرجہ ذیل دس سوالات کے بوابات بھی طلب کئے۔ا ظهور مسیح و مہدی کا ذکر قرآن مجید اور احادیث ہیں۔۲ - کیا مسیح جن کا آئندہ ظہور تسلیم کیا گیا ہے وہی علی بن مریم ہوں گے یا کوئی اور؟ ۳ - (النت) کیا مسیح اور مہدی کا درجہ نبی کا ہو گا ؟ رب) انہیں وحی و الہام بھی ہوگا ہے ۴۔کیا ان میں سے ایک یا دونوں قرآن یا سنت کے کسی قانون کو منسوخ کریں گے ؟ ہ پیغمبر کو کس طریق پر وحی آتی تھی۔اور کیا حضرت جبرائیل مرئی صورت میں آنحضرت صلی اللہ