تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 291
۲۸۹ خوش کن اقدام (ترجمہ) جماعت احمدیہ کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے جماعت کے عقائد سے متعلق ایک مفصل بیان جاری کر کے مذہبی مناقشات کو دور کرنے اور حالیہ امینی احمدیہ تحریک کے ذریعہ پیدا کی گئی تلخی کو رفع کرنے کے لئے ایک نہایت مفید اقدام کیا ہے۔امام جماعت احمدیہ نے کہا ہے کہ قرآن مجید اور سنت کے طریق کار سے ذرہ بھر انحراف ان کے نزدیک گناہ ہے تمام کلمہ گو آپ کے اور آپ کی جماعت کے نہ دیک مسلمان ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل اور اس کا حصہ ہیں آپ کا یہ اعلان غلط فہمیوں کے ازالہ کے لیے ایک بہت ہی دور رس اقدام ہے۔یہ درست ہے کہ احمدیوں اور قدامت پسند علماء کے مابین بعض مذہبی امور میں اختلاف ہے تاہم دیگر فرقوں کے درمیان اس سے بھی بڑھ کہ اختلافات پائے جاتے ہیں۔اگر ہم ان اختلافات کی چھان بین کرنے لگیں تو ان کی کوئی انتہاء نہ ہوگی اور پاکستان انتشار کا ملغوبہ بن کر رہ جائے گا۔ہمارے خیال میں ملت کی پچھتی اسلام کا سب سے بڑا مطمح نظر ہے اس قومی یک جہتی کو کھونا اور ملک کو کمزور کرنا سب سے بڑا کفر ہے۔پاکستان میں اسلام اور کفر کی اس کے سوا کوئی توجیہ نہیں ہونی چاہیئے، اور ہم اس بات کے کہنے میں حق بجانب ہیں کہ یہی قرآنی تعلیمات کا خلاصہ ہے۔ہمیں شبہ ہے کہ احمدیہ جماعت کے سربراہ کی یہ تصریح اُن علماء کرام کو نسلی دے سکے گی ہو جو علامہ اقبال کے نظریہ کیمطابق جنت میں بھی کسی ایسی چیز کی تلاش میں ہوں گے جو جھگڑے کا باعث ہو۔تاہم عوام کے اندر دانشور طبقہ کے لیے اس میں یقینا لمحہ فکریہ کی گنجائش ہے۔۔سبب تک ہم اپنے تمام اختلافات کے با وجود متحد نہیں ہو جاتے ، ایک آزاد قوم کی حیثیت سے ہمارا مستقبل مخدوش ہو جائے گا بیرونی دنیا کی کوئی بھی طاقت کسی بھی