تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 277
۲۷۵ پر آئی توحضرت انس کو بھی اور اطلاع ہو ئی کہ مجھے نظربند کر لیا گیا ہے۔مگرم قاضی عبدالرحمن صاحب کیریری بہشتی مقبرہ نے حضور کا یہ پیغام مجھے دیا کہ پریشانی اور گھبراہٹ کی ضرورت نہیں اور آپ کے بیوی بچوں کا ہر طرح خیال رکھا جائے گا۔میں اس وقت پولیس کے ہمراہ کو اربڑ کے سامنے سڑک پر کھڑا تھا۔میں نے مکرم قاضی صاحب سے کاغذ کا ٹکڑا اور پنسل لی اور کا غذیر حدیث مشریف کے یہ الفاظ لکھ دیئے کہ نُزْتُ وَرَب اللعبة اور قاضی صاحب سے درخواست کی کہ میرا یہ پیغام حضور تک پہنچا دیں۔جب میں نظر بندی سے رہا ہو کہ ربوہ آیا تو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مجھے فرمایا کہ آپ کے فزت ورب الكعبة “ کے الفاظ خوب تھے اور حضور نے اُسے بڑا پسند فرمایا۔اسی زمانہ کا تذکرہ ہے کہ حضرت مولوی محمد دین صاحب صدر انجمن احمدیہ (جو اس وقت آپ ناظر تعلیم تھے جو میرے ساتھ بڑی ہی شفقت اور مہربانی کا برتاؤ رکھتے ہیں۔اور آپ کا مکان میرے مکان کے قریب ہی تھا۔آپ نے مجھے بتلایا کہ جن دنوں تم نظر بند تھے صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب بھی لاہور میں نظر بند تھے۔ایک دن امور عامہ کا کوئی کارکن صاحبزادہ صاحب سے لاہور میں ملاقات کر کے آئے۔اور وہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں آئے۔میں بھی حضور کے پاس بیٹھا تھا۔اس کارکن نے حضرت صاحبزادہ صاحب کی خیریت اور حالات کی اطلاع دی تو حضور نے فرمایا یہ تو ٹھیک ہے۔وہ ملک عبد اللہ غریب کے متعلق بھی بہتر کریں کہ ان کا کیا حال ہے۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ غریب کا لفظ مجھے خاص طور پر یاد ہے۔الله الله ! اکس قدر مہربان اور شفیق آتا ہے کہ اپنے فرزند کی خیریت کی خبر کے ساتھ ایک اونٹی خادم کا کس قدر خیال ہے کہ اس کی خبر گیری کی تاکید کی جاتی ہے۔اس کے رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔یہ تاریخی کلمات صحابی رسول حضرت حرام بن ملمان نے اس وقت کیسے تھے جبکہ آپ کو غزوہ اُحد کے ایک بد بخت کا فر نے نیزہ مارا اور آپ کے جسم مبارک سے خون کا فوارہ چھوٹ گیا اور آپ شہید ہو گئے د صیحیح بخاری مصری ج ۳ ص ۲۰ (حالات غزوه احد )