تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 276 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 276

پانچ دن کے بعد مجھے یہاں سے پوسٹل جیل میں تبدیل کر دیا گیا۔بورسٹل جیل میں بچوں کا ایک سکول ہے اس سے ملحق دو کرے پختہ بنے ہوئے تھے جن کے آگے بر آمدہ اور ایک وسیع صحن تھا۔یہاں مجھے اکیلے کھا گیا۔سکول کے احاطہ کی طرف ایک بڑا آہنی گیٹ تھا۔یہ حصہ اور کمرے جن میں میں فروکش تھا۔معلوم ہوا کہ یہ خان عبد الغفار سرحدی گا مذھی کے لیے بنایا گیا تھا۔وہ یہاں پر نظر بند تھے اور مختوڑا عرصہ ہوا کہ انہیں یہاں سے تبدیل کیا گیا ہے۔بوسٹل جیل کے اسسٹنٹ سپر نٹنڈنٹ ان دنوں شیخ نذیر احمد صاحب تھے جو ایک نوجوان آدمی تھے۔بڑے خوش اخلاق اور ملنسار طبیعت کے مالک تھے۔ہر دوسرے تیسرے روز عصر کے بعد تشریف لاتے اور کافی دیر باتیں کرتے رہتے۔بار بار دریافت کرتے کہ کوئی تکلیف تو نہیں ہے۔کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتلائیں۔میں نے انہیں ایک دن کما کر تکلیف یہ ہے کہ میں یہاں سارا دن بیکار یہ ہتا ہوں۔مجھے کوئی کام دے دیں۔اس پر انہوں نے کہا کہ آپ تو ہمارے پاس امانت ہیں۔کام کیسے دے سکتے ہیں۔اس پر میں نے کہا کہ مجھے کچھکتا ہیں ہی منگوا دیں اور کوئی ایک اختیارہ۔چنانچہ اس بات کا انہوں نے دو ایک دن میں ہی انتظام کہ دیا۔جزا ہم اللہ تعالیٰ۔بوسٹل جیل میں کھانے کا انتظام معقول تھا۔میری بی کلاس تھی۔دونوں وقت کھانے میں گوشت ہو تا تھا۔اور ناغہ کے دن انڈے ہوتے تھے۔ایک وقت چپاتی کے ساتھ چاول بھی ہوتے تھے۔عصر کے وقت روزانہ دودھ اور کھانڈ مہیا کرتے اور ہفتہ میں دو تین بار موسم کا پھل بھی دیتے تھے۔ڈیڑھ ماہ کے بعد رمضان کے ایام میں مجھے رہا کر دیا گیا۔اس عرصہ میں حضرت مصلح موعود کی شفقت اور احسان ناقابل فراموش ہے۔میرے متعلق آپ کا دفتر امور عامہ والوں کو بار بار ارشاد ہوتا کہ اس کا خیال رکھا جائے۔اور میری بیوی بچوں کے متعلق الگ تاکید کی جاتی۔میری اہلیہ صاحبہ گھر سے بہت کم باہر نکلتی ہیں۔میری نظر بندی کے دوران حضرت مرز البشیر احمد صاحب اور حضور صلح موعود کے ہاں جاتی تو وہ انہیں بڑی تسلی اور تشفی فرماتے۔اسی طرح حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب ده رزانه کوارٹر پر تشریف لاکه خیریت اور ضروریات کے متعلق پوچھتے۔ربوہ میں جب شام کے وقت پولیس میرے مکان پر