تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 275 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 275

آدمیوں کے ساتھ کرنے کے متعلق حضور نے فرمایا کہ اگر راستہ میں کسی جگہ گر فتاری ہو جائے تو ایک آدمی میرے پیچھے جائے گا کہ پولیس آپ کو کہاں لے جاتی ہے اور دوسرا آدمی واپس آکہ مرکز میں اطلاع دے گا۔اس کے بعد جب میں چوتھے سفر سے کراچی سے واپس آیا ان ایام میں میری رہائش کوارٹونز صدر انجمن احمدیہ میں تھی۔میں مغرب کی نماز بہت مبارک میں ادا کر کے آرہا تھا کہ ایک شخص نے بتلا یا کہ آپ کے کوارٹر پر چار سپاہی اور ایک پولیس آفیسر کھڑے ہیں۔یہ وسط اپریل کی بات ہے۔صحیح تاریخ اب یاد نہیں رہی۔پولیس آفیسر کا نام شیخ ابرار احمد تھا۔انہوں نے مجھے بتلایا کہ آپ کی نظر بندی کے احکام ہیں۔رات کوارٹر ہی میں قیام کیا اور صبح یہ مجھے لاہور لے گئے شیخ صاحب بہت شریف پولیس افسر تھے۔سفر کے دوران میری ضرورت کا بہت خیال رکھتے رہے۔لاہور میں ایک بہترین ہوٹل میں کھانا کھلایا۔لاہور میں سیکرٹریٹ میں وہ مجھے برآمدہ میں چھوڑ کر خود اپنے بڑے افسر ہوم سیکریڑی سے ملنے گئے۔میں دردانہہ کے قریب ہی کھڑا تھا۔ایک افسر نے انہیں کہا کہ آپ نظر بند کو بغیر کسی نگرانی کے ہی چھوڑ آئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں ان کا ذمہ دار ہوں۔یہ بہت شریف لوگ اور قانون کے پابند ہیں۔اور یہ نظر بند ہیں قیدی تو نہیں ہیں۔ہوم سیکریٹری صاحب نے مجھے بی کلاس دینے کا فیصلہ کیا اور لاہور سے مجھے جھنگ میں لایا گیا۔پندرہ دن میں جھنگ میں رہا۔تھانے ہی میں ایک کو مٹھری میں مجھے رکھا گیا۔صبح شام صحن میں پھرنے کی اجازت مفتی۔کھانے کا انتظام جماعت بھنگ نے کیا۔اس کے بعد جھنگ سے مجھے لاہور لے جایا گیا اور وہاں پانچ ون میں سنٹرل جیل میں رہا۔یہاں ایک مبند و نظر بند تھے۔بخشی صاحب انہیں کہتے تھے۔بڑے زندہ دل اور ادب نوازنہ آدمی تھے۔جیل کے حکام ان کا بہت خیال رکھتے تھے۔معلوم ہوا کہ وہ بڑے اچھے خاندان سے ہیں اور پنڈت ہر رنگ کے پیغام ان کے لیے آتے ہیں۔واللہ اعلم بالصواب۔اسی جیل کے ایک حصہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب تھے۔۔۔جیل میں ہمارا رابطہ کھانا لانے والے قیدیوں کے ذریعہ قائم تھا لیکن