تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 270 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 270

لگے اگر آپ سے زیادتی ہوئی ہے تو وہ مارشل لاء کی طرف سے ہے۔پولیس کی طرف سے نہیں چنانچہ بعد میں معلوم ہوا کہ میری رہائی میں ان کی رپورٹ کا بھی دخل منتھا۔بریگیڈ پیرمرزا ، انٹروگیشن (Interogation) پر مامور تھے وہ نہایت شریف انسان تھے۔انہوں نے مجھ سے ادھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد مشورے کے طور پر کہا کہ اگر آپ کا ٹرائل ہو تو وہاں یہ کہتا کہ میں نے یہ مضمون ایک اور مضمون لکھنے کے لیے نقل کیا تھا غالبا وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ میں واقعات سے ہٹ کر بھی کچھ کہ سکتا ہوں کہ نہیں ، میں نے یہ عرض کیا کہ نہیں جناب ! یہ بات واقعات کے خلاف ہے۔اصل بات اتنی ہی ہے۔جو میں نے آپ سے پہلے عرض کر دی ہے کہ میں نے یہ مضمون اس لیے نقل کیا تھا کہ میرا ارادہ تھا کہ اسے الفضل کو بعینہ بھیج دوں گا کیونکہ اسی قسم کی ایک قسط پہلے بھی الفضل میں شائع ہو چکی تھی۔مگر میں نے اسے نقل تو کر لیا مگر الفضل کو بھیج نہ سکا اور اسی طرح پچھلے چھ ماہ سے میرے پاس پڑا تھا۔بار بار انہوں نے مختلف پیراؤں میں چکر دے کر اصل واقعہ کے خلاف مجھ سے کہلوانے کی کوشش کی مگر میں نے وہی کہا جو اصل بات متقی اور پیچ کا دامن نہ چھوڑا۔بعد میں معلوم ہوا کہ بریگیڈ سیر صاحب نے نہ صرف اس عاجز کی سفارش کر دی بلکہ اس انسپکٹر پولیس کو جو مجھے گرفتارہ کر کے لایا تھا بھائی جان کے سامنے ہی بہت سخت سست کہا بلکہ بہت بے عزباتی کی۔میرے اس کیس کی تفصیلات تو اور بھی ہیں مگر یہاں چونکہ مقصود اپنے کیس کی تفصیلات بیان کرنا نہیں ہے بلکہ مقصد حضرت میاں صاحبان کی زندگی کے ان پہلوؤں کے ذکر خیر سے روحوں کو سیراب کرنا ہے۔جن کو میں نے جیل میں اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا اور جن کا لیکن عینی شاہد ہوں اس لیے یکیں ، اپنے کیس کی مزید تفصیلات یہیں چھوڑتا ہوں۔اس عاجزیہ کو حضرت میاں صاحبان کی معیت میں بہتر گھنٹے سے زیادہ ہی رہنے کا موقع ملا اور میں نے آپ کو بہت قریب سے خوب خوب ہی دیکھا ہر لمحہ اور ہر آن اُن کی رفاقت ہمارے ایمانوں میں اضافہ کا باعث بنی رہی۔اور آج تک میرے دل و دماغ پیر کا لنقش فی الحجر ہے اس کے بعد آپ بی (B) کلاس میں چلے گئے۔جس سے ہم خوش تو تھے کیونکہ آپ کا سی (c) کلاس میں ہونا ویسے بھی آپ کے مقام و منصب کے منافی تھا۔لیکن ہم آپ کی رفاقت حسنہ