تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 266 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 266

۲۶۴ آئی ہے۔میں نے عرض کیا کہ حضور آئی ہے۔یہ فرمایا سناؤ " چنانچہ میں نے عرض کیا کہ حضور میں نے دیکھا ہے۔در کہ ہمارے لیے ایک ریلوے لائن تیار ہوئی ہے جس کے بائیں پہلو سے ایک چھوٹی سی لائن تیار ہوئی ہے جیسے کہ ڈالی وغیرہ کے لیے ہوتی ہے وہ صرف میرے لیے ہے۔اس کے آگے جو بین لائن ہے۔اس کے ساتھ کچھ لوگ پچھلا ہوا مزید لوہا دائیں جانب چمٹا رہے ہیں کیکا یہ سنتے ہی آپ نے فرمایا کہ آپ تو انیٹر یشن (Interrogation) میں رہا ہو جائیں گے مگر اس سے آگے آپ خاموش ہو گئے۔اس طرح جیسے کہ کچھ حصہ تعبیر کا ان کے ذہن میں اپنے متعلق ہو جس کو آپ بیان نہیں فرمانا چاہتے۔یہ محسوس کر کے میں نے عرض کیا کہ حضور آپ کے لیے بھی تو اس میں رہائی کی خوشخبری ہے کیونکہ ریو سے لائن منزل مقصود کی طرف لے جاتی ہے اور ہماری منزل اس وقت رہائی ہی ہے۔فرمایا دوست ہے مگر آپ نے پھر بھی آگئے تعبیر بیان نہیں فرمائی۔اصل میں میرے ذہن سے خواب میں لائن کے ساتھ جو مزید لوٹا لگایا جا رہا تھا اس کی تعبیر او جھیل تھی۔جو سزا کی طرف اشارہ تھا۔یعنی باقیوں کو سزا تو ہو گی مگر وہ بھی جلد رہا ہو جائیں گے اور پوری منزا نہیں گزاریں گے۔اتنے میں ناشتے کا وقت ہوگیا چنانچہ جیل سے ہمارا ناشتہ آگیا جو کا نے اُبلے ہوئے چنوں ریالوں سے بھی زیادہ سیاہ کا تھا۔میں نے ان بہنوں کی طرف کچھ نہ کچھی سی نگاہوں دیکھا کہ کیا اب ہمیں یہ کھانے ہوں گے۔حضرت میاں صاحب فور میرے چہرے کے تاثرات ہی سے میرے دل کی کیفیت اور میرا تر دو بھانپ گئے اور فوراً ان کو چادر پرہاتھ سے بھیرنے کے بعد انہیں خود مزے لے لے کر کھانا شروع کر دیا۔آپ کھاتے بھی جاتے تھے۔اور فرماتے بھی جاتے تھے یہ بشیر صاحب! دیکھئے یہ تو بے حد لذیذ ہیں۔اللہ اللہ ! آپ نے ہمیں کسی کسی طرح تکلیف کے ان دنوں کو حوصلہ اور بشاشت سے گزارنے کے بعد آداب سکھائے ان کا ہا تھ دستر خوان کی طرف بڑھ جانے کے بعد بھلا کس کی مجال متقی جو نہ کھائے چنانچہ میں نے بھی کھانا مشروع کر دیا۔اپنے اس عمل سے گویا آپ نے بڑے لطیعت اندازہ میں مجھے یہ بات ذہن نشین کرا دی کہ ہم جیل میں میں اور پھر مارشل لاء کی جیل میں۔گھر یہ نہیں ہیں۔