تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 257
۲۵۵ یہ صاحب بہت حیران ہوئے پھر سنبھلے بہت جلد حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے۔جب حضور کو وارنٹ گرفتاری دیکھائے تو حضور نے فرمایا اگر اجازت ہو تو میں اٹیچی کیس لے لوں پھر گھر والوں کو خدا حافظ کہا اور ساتھ میں پڑے۔اس افسر کو دو ایک روزہ کے بعد ایک بڑے عالم دین کی گرفتاری کے وارنٹ ملے وقت گرفتاری تقریباً پہلے والا۔ان کے گھر پہنچے گھنٹی اور دروازے کھٹکھٹاتے رہے مگر کافی دیر تک کوئی جواب نہ ملا کافی وقت کے بعد ایک نوکر آنکھیں ملتا ہوا آیا۔جب مولانا کے متعلق معلوم کیا تو جواب ملا سورہے ہیں۔کافی تگ و دو کے بعد مولانا سے ملاقات ہوئی۔جب وارنٹ گرفتاری دکھائے تو اسلامی اور عربی اصطلاحات میں کوسنے لگے بڑی بحث مباحثہ کے بعد جب ان مولانا کو گاڑی میں لے چلے تو یہ لیفٹیننٹ دل ہی دل میں سوچتے رہے کہ ایک "کا فرما تو تہجد پڑھ رہا تھا اور توکل کا اعلیٰ نمونہ خاموشی سے پیش کرتا گیا دوسری طرفت بزنم خود به عالم دین محمل، تو کل اور بردباری سے قطعاً عاری۔دوسرے واقعہ کا تعلق اس دور سے ہے جب اس گرفتاری سے متعلقہ حضور رحمہ اللہ کے مقدمہ کا فیصلہ ہوچکا تھا اور آپ کو سزاسنائی گئی۔یہ واقعہ سنانے والے ایک کیپشن مصاب تھے جو اس بلوچ رجمنٹ سے ہی تعلق رکھتے تھے جس میں خاکسار بھی تعینات تھا وہ ایک روز میرے گھر تشریف لائے 1977ء کی بات ہے۔باتوں باتوں میں انہیں میرے احمدی ہونے کا علم ہوا۔یہ کیپٹن صاحب پوچھنے لگے کہ آجکل آپ کے خلیفہ کون ہیں جب میں نے حضرت مرزا صاحب کا نام لیا تو یکدم سکتے ہیں آگئے کہنے لگے میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ آپ کی جماعت واقعی خدائی سایہ کے نیچے اور روحانی ہاتھوں میں ہے پھر انہوں نے یہ واقعہ بتایا۔اُن کی ڈیوٹی 1923ء کے مارشل لاء میں تھی ان کے فرائض میں ایک کام یہ تھا کہ جن لوگوں کے مقدمات کے فیصلے مکمل ہوتے تو کسی افسر کو مقررہ کرتے کہ جیل میں جا کہ اُسے سزا سنا آئیں جن افسروں کو یہ کام دیا جاتا وہ اپنے عجیب و غریب مشاہدات بیان کرتے کہ ایک صاحب جن کو سزا سنائی گئی۔غیظ و غضب میں آگئے ایک اور صاحب سکتے میں آگئے۔بلکہ شہید مایوس ہو گئے۔بعض اپنی بے گناہی اور معصومیت کا واسطہ دینے لگتے وغیرہ وغیرہ۔میرے پلیٹن وال اس کیپٹن کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ اگر موقعہ ملا تو وہ بھی کسی کو لے جناب سید ابو الاعلی مودودی صاحب امیر جماعت اسلامی نہیں ۲۰ مارچ ۱۹۵۳ کو گرفتار کیا گیا تھا دنا قل)