تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 243
۲۴۱ نمبر ۵۳۰۶۔بی ڈی ایس بی ہر گاہ کہ گورنر پنجاب کو یہ قرین مصلحت معلوم ہوتا ہے کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد سر براہ فرقہ احمدیہ کو ایسے طرز عمل سے روکا جائے جو عوامی حفاظت کے خلاف ہو اور امن عامہ میں خلل اندانہ ہونے کا موجب ہو اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد موصوف کو ہدایت کی جائے کہ وہ احرار - احمدی تنازع یا جماعت احمدیہ کے خلاف ایجی ٹیشن یا اور کسی امر کے بارے میں جس سے مختلف طبقات کے مابین منافرت یا دشمنی کے جذبات کے ابھرنے کا امکان ہو تقریر کر نے یا بیان یا رپورٹ شائع کرنے سے احترازنہ کریں۔لہذا پنجاب پبلک سیفٹی ایکٹ مجریہ ۱۹۴۹ء کی دفعہہ کی ذیلی دفعہ اجتزرو) کے تعویض کہ وہ اختیارات کے مطابق گورنر پنجاب متذکرہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کو یہ حکم دیتے ہیں کہ وہ احراره احمدی تنازعہ یا جماعت احمدیہ کے خلاف ایجی ٹیشن یا اور کسی امر کے بارے میں جس سے مختلف طبقات کے درمیان منافرت یا دشمنی کے جذبات ابھرنے کا امکان ہو کوئی تقریر کرنے یا بیان دینے یار پورٹ شائع کرنے سے احترانہ کریں۔محکم گورز پنجاب ر دستخط) الیں۔غنیات الدین احمد موم سیکرٹری گورنر پنجاب مورخه ۸ ار مارچ ۱۹۵۳ حکومت پنجاب کی خصوصی ہدایت پر وار مارچ حضرت صل عود کا پر شوکت جوابا انا ۱۹۵۳ء کو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس جھنگ نبوه پہنچے اور گورز پنجاب کا یہ نوٹس حضرت مصلح موعود کی خدمت میں بغرض تعمیل پیش کیا حضور نے نوش تو لے لیا مگر ساتھ ہی نہایت پر جلال اندازہ میں ارشاد فرمایا :- " آپ اس وقت اکیلے مجھ سے ملنے آئے ہیں اور کوئی خطرہ محسوس کیے بغیر میرے پاس پہنچ گئے ہیں اسی لیے کہ آپ کو یقین ہے کہ گورنمنٹ آپ کی پشت پر ہے پھر اگر آپ کو یہ یقین ہے کہ گورنمنٹ کا نمائندہ ہونے کی وجہ سے حکومت آپ کی مدد کرے گی۔تو کیا میں جو خدا تعالیٰ کا مقررہ کردہ خلیفہ ہوں