تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 221
۲۱۹ لفافے ڈاک کے ذریعہ بھیجنے کے لیے کبھی نماز فجر تک کبھی اس سے پہلے تیار کر لیتے۔اگر کبھی کام جلدی ختم ہو جا تا تو نماز فجر سے قبل کچھ آرام کر لیتے صبح پھر دفتر کے وقت حاضر ہو کر پورا وقت دفتر کے کام میں مصروف رہتے۔چونکہ قریباً ساری رات ہی جاگنا پڑتا تھا اس لیے بھوک بھی لگ جاتی تھی اس کے لیے ہم نے یہ انتظام کیا کہ چائے یا قہوہ جو بھی میسر آئے گھر سے لے آتے اور جب بھوک محسوس ہوتی تو اسے گرم کر کے پیٹتے ، کھانے پینے کی چیزیں بوجہ فسادات ربوہ نہیں آرہی تھیں چائے یا قہوہ کیساتھ کبھی چنے ابلے ہوئے اور کبھی یہ میسر نہ آتے تو خالی چائے یا قہوہ پی کر گزارا کر لیتے تھے۔ان خطوط میں جماعتی خبروں کے علاوہ مرکزی اداروں کے اعلانات اور بعض دیگر اہم رپورٹیں بھی شامل کی جاتی تھیں۔حضرت مصلح موعود کی واضح ہدایت یہ تھی کہ اس میں کوئی ہر اس پھیلا نے والی خبر نہیں ہونی چاہیئے۔حضور نے اس پہنچتی سے کار بند رکھنے کے لیے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ناظر اعلیٰ کو خاص طور پریہ اس امر کی تاکید فرما ر کھی تھی۔یہ خطوط اپنی افادیت کے اعتبار سے مرکزی خبر نامہ کی حیثیت رکھتے تھے جن سے سب پاکستانی جماعتوں کا رابطہ اپنے مرکز سے قائم رہا اور یہ جہاں جہاں بھی پہنچے جماعتوں میں استقلال اور بشاشت اور صبر کی نئی روح پیدا ہوگئی۔یہ انتظام ۳۰ مارچ ۱۹۵۳ تک یعنی کراچی سے روزنامہ" المصلح" کے شروع ہونے تک جاری رہا اور ساتھ ہی دفتر اطلاعات بھی ختم کر دیا گیا۔ر" ذیل میں بعض بلیٹن منہ ضروری ہدایات کے درج کیے جاتے ہیں :- بلیٹن علی جماعت کے لیے ) برادران جماعت اطلاعات " السلام علیکم ورحمة الله و بر کانده ریوه ۱۰ ر ماریچ - حضرت اقدس۔۔۔۔۔ایده الله منصرہ العزیز کی صحت کے متعلق تازہ ترین