تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 216
۲۱۴ در مارچ ۱۹۵۳ء خاکسار مرز امحمود احمد د امام جماعت احمدید جس جس کو یہ خط ملے تحریر و تقریر ا تمام جماعتوں میں پھیلائے۔پانچواں پیغام بسم اللهِ الرَّحْمَنِ التَدِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِ الكَرِيمِ بسم برادران ! هو الن خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ امد مامين السّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةِ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ حالات پہلے سے درستی پر آر ہے ہیں۔ساٹھ فیصدی جگہوں سے خبریں یہی آرہی ہیں کہ حالات درست ہورہے ہیں۔۲۵ فیصدی کے قریب خبریں یہ ہیں کہ فسادات ابھی اپنے دستور پر قائم ہیں اور پندرہ فیصدی جگہوں سے یہ خبریں ہیں کہ فساد یا تو نیا پیدا ہورہا ہے یا بڑھ رہا ہے۔بہر حال ان ساری خبروں کا نتیجہ یہ ہے کہ نصف سے زیادہ فساد دب چکا ہے اور خدا کے فضل سے امید ہے کہ ہفتہ عشره تک به فساد دب جائے گا۔قریب میں گندم پیدا ہو نیوالی ہے اور زمیندار مجبور ہو گا کہ وہ گندم کی کٹائی کرے اس طرح کپاس کی کاشت کا وقت بھی قریب آرہا ہے غالباً ان دنوں میں مولوی نہ مینداروں کو مجبور نہیں کہ سکتا کہ وہ اپنا کام چھوڑے اور اگر وہ زمیندار کو مجبور کرے گا تو اگلی دو فصیلیں اس قدر تباہ ہو جائیں گی کہ پنجابی کو نہ پہنتے کو کیڑاٹے گا۔نہ کھانے کو روٹی ملے گی اور اس تباہی کی ذمہ داری بھی طور پر مولویوں اور مود و ولیوں پہ ہو گی۔گو یہ فتنہ پرداز لوگ غصے سے اس وقت اندھے ہو رہے ہیں۔پھر بھی میں سمجھتا ہوں کہ اتنی جرات کرنی ان کے لیے مشکل ہوگی۔کیونکہ تین چار جینے کے بعد اس کے نتائج نکلنے پر ملک اس قدر مخالف ہو جائے گی کہ وہ کہیں منہ دکھانے کے قابل ہی نہ رہیں گے۔ہیں ہمت اور استقلال سے کام لو۔اصل چیز جرات اور ایمان ہے ہمارے مخالفوں میں سے احمدیوں کو مارنے والوں کو بھی یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر میں نے مارا تو پھانسی چڑھوں گا یا اگر مقامی حکام مجھے نہیں پکڑیں گے تو ملک کی تباہی کو دیکھتے ہوئے مرکز دخل دیگا اور میں گولیوں کا شکار بنوں گا پس مارنے والے کے دل میں مرنے والے سے کم ڈر نہیں