تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 208
۲۰۶ دلوں میں زندگی کی برقی لہر دوڑا دی۔ان تاریخی پیغامات کا آغاز ۲۸ور فروری سلا کو اور اختتام ۲۷ مارچ ۱۹۵۳ء کو ہوا۔یہ پیغامات جو اس دور کی تاریخ کا ایک قیمتی سرمایہ ہے ذیل میں درج کیے جاتے ہیں :۔بسم الله الرحمن الرحیم تخمدة وتصلى على رسوله الكريم پہلا پیغام وعلى عبد المسيح الموعود برادران جماعت احمدیہ ! السّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ آپ نے سنا ہو گا کہ حکومت پاکستان نے مجبور ہو کر احتدار درکہ کو کراچی میں گرفتار کر لیا ہے۔اور ملک کے دوسرے حصوں میں بھی گرفتاریاں شروع ہیں چونکہ اس ایجی ٹیشن کا موجب احرار کی طرف سے جماعت احمدیہ کو ظاہر کیا جارہا تھا۔اس لیے ممکن ہے کہ بعض کمز در طبع احمدی ان خبروں کوشن کہ مجالس یا ریلوے سفروں میں بالا ری کے سفروں میں یا تحریہ یا تقریر کے ذریعہ سے ایسی لاف زنی کریں جس میں کہ ان واقعات پر خوشی کا اظہار ہو۔اور بعض طبائع میں اس کے خلاف غم و غصہ پیدا ہو۔اس لیے میں تمام احباب کو ان کے اخلاقی اور مذہبی فرم کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ایسے دن حبیب آتے ہیں تو مومن خوشی اور لاف و گزران سے کام نہیں لیتے بلکہ دعاؤں اور استغفار سے کام لیتے ہیں تا کہ اللہ تعالیٰ ان کے گند بھی صاف کرے اور ان کے مخالفوں کو بھی سمجھ دے کہ آخر وہ بھی ان کے بھائی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا ایک الہام ہے کہ اے دل تو نیز خاطرا بناں نگاہ دار تاثر کنند دعوای جت به بمیرم به یعنی اے دل تو ان مسلمانوں کے جذبات کا بھی خیال رکھا کر جو تیرے مخالف ہیں کیونکہ آخر وہ بھی میرے آقا اور پیغمبر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعوی لکھتے ہیں۔کے بل " العام " کا لفظ سہو لکھا گیا ہے۔دراصل یہ شعر حضور علیہ السلام کا رقیم فرمودہ ہے جو حضور کی کتاب ازالہ اوہام “ میں درج ہے۔(صفحہ ۱۶۴ طبع اقول)