تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 204 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 204

وہ کہنے لگا اسی قسم کی تو بہ تو وہ تم سے بھی زیادہ کرتے ہیں۔اگر اس نے واقعہ میں جمعیت سے توبہ کر لی ہے تو پھر ا سے مسجد میں لاؤ اور میرے پیچھے نماز پڑھاؤ۔چنانچہ وہ پھر اس کے پاس گئے۔وہ انہیں دیکھ کر کہنے لگا کہ اب پھر تم کیوں آ انہوں نے کہا ہم اس لیے آئے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ مسجد میں چل کر نمازنہ پیر ہیں تاکہ ہمیں یقین ہو کہ آپ نے احمدیت سے توبہ کر لی ہے۔وہ کہنے لگا میں نے تو اس لیے تو یہ کی تھی کہ مرزا صاحب کہتے تھے نمازیں پڑھو۔روزے رکھو۔زکواۃ دو۔حج کرو۔جھوٹ نہ بولو۔شراب نہ پیٹو۔جوانہ کھیلو۔کہنچتیاں نہ پنچواؤ۔اب تم نے جب تو یہ کہ والی تو میں خوش ہو گیا کہ چلو نمازیں بھی چھوٹیں۔روزے بھی گئے۔زکواۃ بھی معاف ہوئی۔حج بھی گیا۔اب دن رات شراب پیٹں گے۔جوا کھیلیں گے۔کنچنیوں کے ناچ دیکھیں گے گر تم تو پھر نمازیں پڑھانے کے لیے آگئے ہو۔اگر نمازیں ہی پڑھانی تھیں تو یہ نمازیں تو مرزا صاحب بھی پڑھایا کرتے تھے پھر تو بہ کرنے کا فائدہ کیا ہوا۔وہ شرمندہ ہو کر اپنے مولوی کے پاس آئے اور انہوں نے یہ سارا واقعہ اُسے سنایا۔وہ کہنے لگا میں نے تم سے پہلے ہی کہدیا تھا کہ اس نے ضرور کوئی چالاکی کی ہے ورنہ اگر اس نے تو یہ کی ہوتی تو یہاں آکر ہمارے پیچھے نماز کیوں نہ پڑھتا۔اس شخص کے بیٹے کے دل میں ایمان زیادہ تھا۔اُسے جب اپنے باپ کا یہ واقعہ معلوم ہوا تو وہ بہت ناراض ہوا اور اس نے اپنے باپ کو کہا کہ تم نے اتنی کمزوری بھی کیوں دکھائی۔کئی بیٹے مخلص ہوتے ہمیں اور ماں باپ کمزور ہوتے ہیں اور کئی ماں باپ مخلص ہوتے ہیں اور بیٹے کر دور ہوتے ہیں لیکن بہر حال اصل خوبی یہی ہے کہ قوم کو ہزاروں بلکہ لاکھوں لوں تک تو کل اور ایمان کی زندگی نصیب ہوا اور اس کے افراد خدا تعالیٰ کے دامن کو ایسی مضبوطی سے پکڑے رکھیں کہ ایک لمحہ کے لیے بھی اس سے جُدا ہو نا انہیں گوارا نہ ہویا نے (حاشیہ اگلے صفحہ پر )