تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 203 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 203

بھی مڑ جاتے تھے۔آخر کچھ دیر کے بعد وہ سب لوگ واپس چلے گئے۔اتنے میں ان کے دوسرے پھاٹک کی طرف سے ایک مستری داخل ہو ا جو ان کے ماتحت کام کرتا تھا اور جسے انہوں نے ہی طازم کر وایا تھا۔تو انہوں نے اس سے پوچھا کہ ان لوگوں کے آگے آگے کون نوجوان تھا۔ہمیں نے دیکھا ہے کہ پہلے وہ گالیاں دیتے ہوئے آگے بڑھتا مگر پھر وہ اندر اس کا ساتھی دونوں مڑھاتے اور ان کے مڑ جانے کی وجہ سے باقی ہجوم بھی مڑ جاتا۔وہ کہنے لگا یہ دونوں میرے بیٹے تھے۔میں نے انہیں بلا کہ کہا تھا کہ مجھے پتہ ہے کہ نکل اُن کے مکان پر حملہ ہونا ہے مگر انہوں نے مجھ پر یہ احسان کیا ہوا ہے کہ انہوں نے مجھے بھی ملازم کر وایا ہے۔اور تمہیں بھی۔اب تمہارا فرض ہے کہ تم اس احسان کا بدلہ اتارو۔یہ لڑ کے ہوشیار تھے۔انہوں نے پتہ لگا لیا کہ کس وقت حملہ ہونا ہے اور خود ان میں شامل ہو کر آگے آگے ہو گئے اور کہنے لگے چلو ہم بتائیں کہ تم نے کس گھر پر حملہ کرنا ہے۔مگر جب وہ گالیاں دیتے ہوئے قریب آتے تو کہتے مرزائی کے گھر میں کیا رکھا ہے۔چلو ہم تمہیں اور گھر بتاتے ہیں جن کے سیف رویوں سے بھرے پڑے ہیں اور جہاں بڑا سامان ہے۔اور اس طرح وہ ان کو واپس لے گئے اور آپ کا گھر بچ گیا ہے گوجرانوالہ کے ایک احمدی کا یہ واقعہ حضور نے کئی بار بیان فرمایا۔: چوتھا واقعہ ! در ایک پرانے احمد میں تھے جو سترہ پچھتر سال کی عمر کے تھے۔ان کے پاس بھی گاؤں کے لوگ پہنچے اور کہنے لگے کہ چلوا در مسجد میں چل کہ تو بہ کرو۔اس نے کہا ہم تو ہر روز تو بہ کرتے ہیں۔آج مجھ سے نئی تو بہ کو لنسی کر وانے لگے ہو۔وہ کہنے لگے ہماری مراد اس تو بہ سے نہیں بلکہ ہمارا مطلب یہ ہے کہ تم احمدیت تو یہ کہ دو۔وہ کہنے لگا میں اپنے سارے گناہوں سے تمہارے سامنے تو بہ کمرتا ہوں۔لوگ خوش خوش واپس چلے گئے اور انہوں نے اپنے مولوی سے جا کہ کہا کہ ہم تو اس سے تو یہ کہ دوا آئے ہیں۔اس نے کہا کس طرح وہ کہنے لگے اس نے سب کے سامنے کہہ دیا ہے کہ میں اپنے سارے گناہوں سے توبہ کرتا ہوں۔" الفضل ۲۸ جون ۱۹۵۶ء ص ۲ - ۳