تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 196
۱۹۳ ۱۳۱ پاکستان کسی راہ پر۔ان سب کا بنگلہ میں ترجمہ دیا گیا ہے۔اور ڈھاکہ زائن گنے شہر میں اور باہر بھی بذریعہ جہانہ، ریل ، لانچر نہ ڈاک کی ترسیل جاری ہے۔نرائن گیج میں دو روزے رکھے گئے اور اجتماعی دعا بھی جاری ہے۔مشرقی پاکستان کی تمام جماعتوں کو بھی روزے رکھنے اور اجتماعی دعا کرنے کے لیے تاکید کی گئی کا اخبارات کے بعض شذرات ۱ - اخبار" ڈھاکہ نے ہر ماسپ ح ۱۹۵۳ء کو اپنے اداریہ میں احرار کے فتنہ کے خلاف حسب ذیل شذرہ لکھا : - قادیانی اور احرار (ترجمہ) موجودہ بین الاقوامی حالات پر نگاہ ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام کو تنگ دازہ میں فی در کرنے کے لیے فضا میں مکدر کیسے میانے کی کوشش ہو رہی ہے۔اسی لفظۂ نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے چونکہ پاکستان اسلام کی بنیاد پر قائم ہوا ہے۔اس لیے وہ غیر رسمی طور پر پاکستان کے خلاف ہیں۔ان حالات میں پاکستانی عوام کو متحد اور متفق رہنا ہی پاکستان کی حفاظت کا باعث ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان ایک نئی حکومت ہے۔اس کی مضبوطی اور ترقی لازمی ہے۔لیکن اب تک ممکن نہ ہو سکا۔اس لیے ہم سب کو متفق ہو کہ اس کی مضبوطی اور اتحکام کی کوشش کرنی چاہیئے۔ان حالات میں احمدیوں کے خلاف احرار می فتنہ حکومت اور اسلام کے سر ہے بڑے مفاد کے لیے مضر ہے۔خبروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ ۱۶, فروری کو احرارہ ایک عام جلسہ میں جمع ہوئے اور وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خاں کو وزارت سے بر طرف کیے جانے کی اور قادیانی فرقہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی آواز اٹھائی۔اور ڈائریکٹ ایکشن عمل میں لانے کے عزم کیے ہوئے ہیں۔حکومت پاکستان کو بطور چلینج کے یہ اعلان کیا گیا۔حکومت نے اس قسم کے فتنہ برپا کرنے والے گیارہ مولویوں کو گرفتار کر لیا۔اور ان