تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 10
تھا مات ۴ - جناب خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم پاکستان نے پاکستان پارلیمنٹ میں بجٹ اجلاس کے دوران تقریر کرتے ہوئے فرمایا۔جن لوگوں نے اس کی راہنمائی کی اور جو اکثریت میں تھے زیادہ تر احراری گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔یہی لوگ اور ان کے نمائندے ہیں جنہوں نے قائد اعظم کو نعوذ باللہ) کافر اعظم اور پاکستان کو پلیدستان" کہا۔جنہوں نے پاکستان کی شدید مخالفت کی اور قیام پاکستان کے بعد بھی سرحد پار کے ساتھ اپنے روابط قائم رکھے یا، انہوں نے غیر اسلامی چالیں اور عیاریاں اختیار کیں اسلام دانسته در ورغ بانی اور جھوٹے پراپیگنڈا کا ہر گز روادار نہیں۔اس جھوٹے پروپیگنڈے کے علاوہ جوان لوگوں نے پاکستان کے وزیر خارجہ کے خلاف کیا۔انہوں نے تو یہ کہنے میں تامل نہیں کیا کہ میں قادیانی ہو گیا ہوں اور میرے ایک بیٹے نے ایک قاریانی لڑکی سے شادی کی ہے حالانکہ انہیں خود معلوم تھا کہ یہ باتیں قطعاً غلط ہیں میں سوال کرنا چاہتا ہوں کہ جس حالت میں اسلام بہتان کی اجازت نہیں دیتا ایسی بہتان آمیز بتحریک اسلامی کیونکہ ہوسکتی ہے اور پھر ان حرکات کو بھی پیش نظر رکھیئے جو اس تحریک کے دوران کی گئیں۔شہری دفارغ کے مقاصد کے لیے لوگوں کو جو اسلحہ سپرد کیے گئے اور جو تربیت دی گئی وہ فوج اور پولیس کے خلاف استعمال کی گئی۔ٹیلیفون کے تار کاٹے ڈالے گئے ، سٹرکیں تھیڑ دی گیئں۔مواصلات کے سلسلے میں خلل ڈالا گیا۔ڈاکخانے جلائے گئے۔موڑ بیں تباہ کر دی گئیں، ریلوے ٹرینیں روکی گئیں۔لوکو شیڈ میں انجن بیکار کر دیئے گئے اور ریل کی پٹڑیاں اکھاڑ ڈالی گئیں ،ہے ه اخبار نوائے وقت ۲۳ مارس ح ۱۹۵۳ ء صت لله تقریر خواجہ ناظم الدین صاحب وزیر اعظم