تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 183
IN ہے کہ اس دفعہ جو فتنہ اٹھا ہے یہ خالص مذہبی نہیں تھا بلکہ سیاسی تھا۔ہمارے ملک میں حکومت لیگ کی ہے اور لیگ کی حکومت جب سے پاکستان بنا ہے برابر ملتی چلی جارہی ہے اور بظاہر آثار ایسے نظر آتے ہیں کہ ایک لمبے عرصہ تک مسلم لیگ کی حکومت ہی قائم رہے گی لیکن بد قسمتی سے لیگ کے کارکنوں کا ایک حصہ جس نے پاکستان بننے کے وقت بڑی قربانی کی تھی۔اپنے دوسرے ساتھیوں سے اختلاف ہو جانے کی وجہ سے لیگ سے علیحدہ ہونے پر مجبور ہوگیا مگر چونکہ اس وقت بی نیا پاکستان بنا تھا ملک کا بیشتر حصہ یہ چاہتا تھا کہ ہمارے ملک میں زیادہ پارٹیاں نہ بنیں اور نظم و نسق ایک ہی ہاتھ میں رہے چنانچہ باوجود اس کے کہ یہ جدا ہونے والے مشہورہ آدمی تھے اور انہیں خیال تھا کہ اکثریت ان کا ساتھ دے گی۔لوگوں نے ان کا ساتھ نہ دیا۔اس میں کوئی مشیر نہیں کہ ان کی قربانیاں بڑی تھیں وہ ملک کے خیر خواہ بھی تھے۔انہیں لوگوں میں رسوخ بھی حاصل تھا۔اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم لیگ سے الگ ہو گئے تو لیگ کا اکثر حصہ ہمارے ساتھ شامل ہو جائے گا لیکن لوگوں کے دلوں میں جو یہ احساس پیدا ہو چکا تھا کہ زمانہ نازک ہے ہمیں اس نازک زمانہ میں اپنے اندر تفرقہ پیدا نہیں کرنا چاہیے یہ اتنا مضبوط ثابت ہوا کہ وہ لیگ باہر نکل کر ایک عضو بے کار بن کر رہ گئے اور اکثریت نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا جب انہوں نے دیکھا کہ ہم سیاسیات کے ذریعہ لیگ کو شکست نہیں دے سکے بوجہ اس کے کہ مسلمانوں میں اتحاد کا جذبہ موجود ہے اور وہ اپنی حکومت کے قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں تو انہوں نے سوچا کہ اب ہمیں کوئی اور تدبیر اختیار کرنی چاہیئے اور ایسے رستہ سے حکومت کے اندر داخل ہونے کی کوشش کرنی چاہیے جس میں عوام کی تا نمید سہارے ساتھ شامل ہو۔چنانچہ اس غرض کے لیے انہوں کے علماء کو چنا تا کہ لوں کو یہ محسوس نہ ہو کہ یہ حکومت اور لیگ کی مخالفت ہے بلکہ وہ یہ مجھیں کہ یہ مخالفت صرف مذہب اور لا مذہبی کی ہے اور اس غفلت اور جہالت میں وہ اپنے اصل موقف کو چھوڑ دیں اور ایسے مواقع پیدا کر دیں جو