تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 179
166 پر خلاف کوئی بات نہیں کہی اور نہ کسی نے کہلوائی کیونکہ میرے ساتھیوں نے جو مجھے بچانا چاہتے تھے میرے ایک ایک فقرہ پر نعرے لگائے تاکہ شور پڑا ر ہے اور کسی اور طرف کسی کا دھیان نہ ہو۔پھر ہم لوگ مسجد سے باہر آگئے اور لوگ دوسرے احمدیوں کو پکڑ کہ لاتے رہے اور میں اُن سے یہ کہتا تھا کہ جو کچھ میں نے کہا ہے آپ کو منظور ہے وہ بھی حقیقت کو سمجھ گئے تھے۔سب نے یہی کہا کہ ہاں ہم کو منظور ہے۔اس پر لوگ نعرے لگاتے رہے۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے بعد جب ملڑی کا انتظام ہو گیا تو تمام جماعت اپنی پہلی سطح پر آگئی ہے۔ہماری دونوں پیوست از کر پر مخالفین نے قبضہ کر لیا تھا۔وہ بھی ان سے واپس لے لی گئی ہیں۔دوسرے جمعہ کی نماز ہیں نے پڑھائی تھی۔سب احمدیوں اور غیر احمدیوں نے میری اقتدا میں نمازہ پڑھی تھی ماہ کوٹ رادھا کشن جناب محمد فقیر اللہ خاں صاحب ریٹائرڈ) ڈپٹی انسپیکٹر سکولز نے تحقیقاتی عدالت میں حسب ذیل درخواست پیش کی کہ : - یہاں احمدیوں کے صرف تین گھر ہیں۔کئی دنوں سے ہم سُن رہے تھے کہ ہر ایک کو قتل کر دیا جائے گا۔مخالفت کی ہوا اس قدر مسموم ہو چکی تھی کہ لوگ بڑی نظر سے ہمیں دیکھنے لگے۔پہلے جلسے ہوئے۔احراری لیکچراروں نے احمدی جماعت اور ہمارے بزرگوں کے خلاف جس قدر ہو سکا گندہ دہنی سے کام لیا اور " زمیندار کی روزانہ اشاعت نے ہمارے خلاف بہت زہر اگلا۔جلوس جو بڑی شان سے نکالے جاتے تھے یوں معلوم ہو تا تھا کہ ہماری زندگیاں امن میں نہیں ہیں۔۔۔مجبر نے ہمیں خبر دی کہ یہاں سے نکل جاؤ ورنہ خیر نہیں۔چنانچہ میں مع اہل و عیال ۱۸ مارچ کو لاہور جانے کے خیال سے اسٹیشن کوٹ رادھا کش کے پلیٹ فارم پر جاپہنچا۔جلوس نکل رہا تھا۔اس کے سینکڑوں افراد پلیٹ فارم کا جنگلا بھاند کر میری طرف پکے۔مرزائی، مرزائی پکارتے ہوئے مجھے مہینہ میں لے لیا۔میں پلیٹ فارم کے ایک طرت ٹہل رہا تھا۔میں نے اپنا رخ اسٹیشن ماسٹر صاحب کے کمرہ کی طرف کر لیا۔اگر عملہ اسٹیشن بتعاون ن کر تا تو میں یقینا سخت خطرہ میں تھا۔خیر پاتے ہی پولیس کے کچھ سپاہی بھی آگئے لیکن وہ ہجوم کے له خوا جناب حکیم مختار احمد صاحب شاہد ره مما ورسالة السمع الثاني الصح الوعود