تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 174
164 میکلیگن روڈ 4 مارچ کو ہجوم نے عبد الکریم خانصاحب بی اے کے گھر کا سامان جلا دیا۔اکبر علی صاحب کی دکان کارنسٹور ۵ ر مارچ ۵۳ راء کو بلوائیوں میکلوڈ روڈ نے ملا کر خاکستر کر ڈالی۔A ور مارپیچ ۴ پیکے شام دو سو سے زائد طلائی چاند بیگم صاحبہ کے مکان میں ۱۹ مین روڈ ڈیڑھ گھنٹے تک لوٹ مار کرتے رہے اور تمام نیستی سامان ہتھیائے گئے اور دروازے اور کھڑکیاں توڑ ڈالیں۔۶۵ شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت لاہور کی کو بھٹی کے علاوہ اس 40 ٹمپل روڈ حلقہ کے دوسرے احمدی بھی حملہ آوروں کی چیرہ دستیوں کا نشانہ بنے۔مثلاً عبدالحمید صاحب ناظم دفتر جماعت احمدیہ کے مکان پہ بلوائیوں نے شدید حملہ کیا اور مکان کا تمام سامان لوٹ لیا اور فرنیچر وغیرہ مع قیمتی کتب کے جن میں قرآن مجید کے چند نسخے بھی تھے بر لپ سڑک جلا دیا گیا ان کا راشن ڈپو بھی لوٹ لیا گیا۔به ر مامیچ ۱۹۵۳ء کو ہوائیوں نے کو بھی غیر م کی بالائی منزل پر حملہ کیا مزنگ روڈ | اور سعد احمد خان صاحب د کلرک پنجاب سول سیکرٹریٹ لاہور) محمود احمد خان صاحب ایم اے (ایکسائز انسپکٹر سنٹرل ایکسائن) مسعود د ابراہیم صاحبہ ایم۔اے بی ٹی رسیکنڈ ہیڈ مسٹرس گورنمنٹ ہائی سکول فار گر از فیروز پور روڈ) کا قیمتی سامان اٹھا کر لے گئے۔عزیز روڈ مصری شاه حکیر محمد الدین صاحب کا محمدی دواخانہ لوٹ لیا گیا۔سعدالدین ر مارچ کو مستری اللہ بخش صاحب دوکاندار سائیکل مرمت کو کا چھو پورہ چاہ میراں روڈ ان کے رشتہ داروں اور دوسرے لوگوں نے مجبور کیا کہ وہ وقتی طور پراحمدیت چھوڑ دیں مگر انہوں نے جواب دیا میری لڑکیاں اور بچے میری آنکھوں کے سامنے اٹھا کر لے جاؤا ذرا نہیں ایک طرف سے چیر نا شروع کر دو اور سارے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دو تب بھی احمدیت چھوڑنے کو کبھی تیار نہیں ہو سکتا۔