تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 172 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 172

16 ہدایت اللہ صاحب کارکن انشاء پر لیں موہن لال روڈ لاہور کا مکان لوٹ لیا موہن لال روڈ گیا اور چار پائیاں اور بستر جلا دیئے گئے۔بعد ازاں ایک مولوی صاحب نے تمام محلہ میں یہ فتویٰ دے دیا کہ یہ لوگ واجب القتل ہیں اور ان کا سامان لوٹنا اور جلانا جائز ہے رمانہ پچ کو ایچ نیانہ احمد صاحب کی کپڑے کی مشہور فرم" الفردوس ( بی ) نٹی انار کلی فسادکی نذر ہو گئی اور اس کا نہایت قیمتی سامان، کپڑے اور فرنیچر لوٹ لیا گیا۔اس حلقہ کے معزز اور شریف غیر احمدی ہمسایوں نے محبت اور رواداری کا بہت پرانی انار کی عمدہ نمونہ دکھایا جسکی وجہ سے افراد جماعت ہر قسم کے جانی اور مالی نقصان عمدہ قسم اور سے محفوظ رہے، تاہم انہیں ہراساں اور پریشان کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی گئی اور جلوسوں میں نہایت گندے نعرے لگائے جاتے تھے۔اس حلقہ میں مندرجہ ذیل احمدی رہائش پذہ پر تھے۔شیخ عبداللطیف صاحب - شیخ عبدالرشید صاحب ، شیخ عبدالرحیم صاحب (۶) بھگوان سٹریٹ) چوہدری اکبر علی صاحب (۶) تا بجر روڈ) منور احمد صاحب ( ۵۲ مدنی چند سٹریٹ) میاں شریف احمد صاحب (۱۳ لاج روڈ) - محمد یونس صاحب (۸) چرچ روڈ چو ہدری عبد الغنی صاحب ( ۱۲ پام سٹریٹ) ڈاکٹر اعجاز احمد صاحب (کپور منتقلہ ہاؤس) مقدم الذکر چار احمدیوں کے سوا باقی سب کو دو تین روز کے لیے اپنے مکانات چھوڑ کر جانا پڑا۔بلوائیوں نے ان کے مکانات پر نشان دہی کی اور ان کو لوٹنا اور آگ لگا نا چاہا مگر ہمسایوں کی مخالفت کے باعث وہ اس منصوبے میں ناکام رہے۔۶ مار پچا س کو چو ہدری اکبر علی صاحب کے مکان کو نذر آتش کرنے کی دھمکی دی گئی۔انہوں نے کہا کہ یہ مکان میر انہیں بلکہ حکومت پاکستان کا ہے اس کے بعد محلے میں سے بعض لوگوں نے آپ کو احمدیت سے توبہ کرنے کی نصیحت" کی مگر آپ نے انکار کیا تو انہوں نے دو چار دن کے لیے مکان چھوڑنے کو کہا ان کے بیٹے منور علی صاحب کو مٹا گیا بلکہ حملہ آوروں نے اُن پر چاہو سے وار کرنے کی بھی کوشش کی۔چو ہد ری اکبر علی صاحب نے انہیں للکارا اور وہ بھاگ گئے۔مارچ کی تاریخ نیلا گنبد اور خواجہ دل محمد روڈ کے احمدیوں کے لیے قیامت سے کم نہیں تھی چنانچہ اس روز حکیم عبدالرحیم صاحب کی دکان پہ ایک احمدی مرزا کریم بیگ اے میاں منور علی تا آب انگلستان میں قیام پذیہ میں اور سلسلہ کی خدمت مجالا رہے ہیں۔