تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 171
149 ٹمپل روڈ۔مزنگ روڈ۔عزیز روڈ۔مصری شاہ کا چھو پورہ - سلطان پورہ - محله دسن پورہ - گنج مغلپورہ۔باغبانپورہ۔نئی آبادی دھرمپورہ۔ر مارچ کو ملک برکت علی صاحب کی ٹمبر کی دکان اور مسکان نذر آتش کر دیا گیا۔راوی روڈ تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔اسی طرح ملک محمد طفیل اینڈ سنہ نیر مرچنٹ کا قیمتی سامان بھی جل کر راکھ ہوگیا۔رتن چند روڈ بلوائیوں نے 4 ر ما سرچ کو محمد یونس صاحب کی نمبر کی دوکان جلا دی۔جیسا کہ اوپر ذکر آچکا ہے اس حلقہ کے احمدیوں کو بھی بلوائیوں کی چیرہ دستیوں کا بھائی گیٹ شکار ہونا پڑا علاوہ ازیں ہر مارچ کو ایک نہایت مخلص احمدی نوجوان جمال احمد صاحب طالبعلیم تعلیم الاسلام کا لج شہید کر دیئے گئے۔انا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔یوک مسجد وزیر خان 1901 ه رمانه چ ۹۵۳ه بروز جمعہ قریباً ایکے دن بلوائیوں نے مسعود احمد صاب اور محبوب عالم اینڈ سنز کے مکان کو لوٹنے کے بعد آگ لگادی۔اسی طرح نیلا گنبد میں دکان "محبوب عالم اینڈ سنز کا سامان لوٹ کر لے گئے اور عمارت کو نذر آتش کر دیا۔گھٹی بازار۔یہاں حافظ رحمت الہی صاحب کی دکان تھی جو کوئی اور جلائی گئی۔بیرون دھلی دروازه مارچ کو ایک غضبناک ہجوم نے جو ایک سو افراد پر مشتمل تھا۔احمدیہ بیت الذکر دہلی دروازہ پر حملہ کیا اور سلسلہ احمدیہ کے مشہور پر مبلغ مولانا ابوالبشارت عبد الغفور صاحب بلوائیوں میں گھر گئے۔عبد القدیر صاحب ہارون (ولد ڈاکٹر عبد الحمید صاحب چغتائی) کو قریباً سو افراد خاندان سمیت ر مارچ ۱۹۵۳ء کی صبح کو عوام کے بے پناہ جوش و خروش کی بناء پر پر ۶ ماڈل ٹاؤن میں منتقل ہوتا پڑا اور اسی رات ان کا مکان نذیر آتش کر دیا گیا۔