تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 169
۱۹۷ کچھ نہیں کر سکتے تھے چاروں طرف درندگی پھیلی ہوئی تھی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھ کے وہیں بیٹھ رہے۔اس کے بعد فرداً فرداً محلہ کے بعض آدمی آتے رہے اور کہتے رہے کہ ہم بے لبس ہیں کچھ نہیں کر سکتے کوئی کہتا کہ ہم کارے آتے ہیں اور تمہیں کسی محفوظ جگہ پہنچا آتے ہیں۔کوئی کہے کہ آپ اپنے مکان کے ساتھ والے مکان پر اوپر سے کود کر چلے جائیں اور پھر فلاں گلی میں چلے انی اور پھر لا مکان میں پچلے جائیں تو آپ محفوظ ہو جائیں گے۔اور ہم مشتعل فسادیوں سے کہدیں گے کہ وہ تو سنیاں نہیں ہیں کہیں جا چکے ہیں وغیرہ وغیرہ مضحکہ خیز تجویز میں بتاتے رہے۔ہم نے ان ے کہا کہ م ب تماشہ دکھانا نہیں چاہتے کہ بھاگتے اور پھیلتے پھریں اس وقت کون ہے جس کی نظر ہم پر گی ہوئی ہیں ہم تو احمد تعالی کے بھروسے پر یہیں رہیں گے وہی ہماری مدد کرے گا۔اور ہمارے پاک امام حضرت نخلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا یہی ارشاد ہے کہ اپنی اپنی جگہ پر ر ہو اور اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعائیں کرتے رہو وہ ضرور ہماری مدد کرے گا۔آپ لوگوں کی اس ہمدردی کا بہت بہت شکریہ۔پھر ظہر اور عصر کی نماز میں جمع کر کے ہم نے پڑھیں اور دعائیں کرتے رہے۔ڈیڑھ یا دو بجے دن کے مارشل لاء لگ چکا تھا مگر اندرون شہر اس کا کوئی اثر نہ تھا۔بدستور اسی طرح شور و غوغا اور ٹولوں کے بڑے جلوسوں کی شکل میں پھر رہے تھے یا" ۹ میستری نذرمحمد صاحب رحمہ پر نگاں اندرون بھائی دروازہ ہم اپنے جواں سال اور نہایت پیارے احمدی بیچے کی شہادت کا دردناک واقعہ بناتے ہوئے لکھا۔" مارچ کی صبح کو نو بجے حکیم سراج الدین صاحب نے مجھے بلایا۔میں اُن کے پاس گیا۔انہوں نے کہا کہ ہم تین چار آدمی ڈپٹی کمشنر صاحب کے پاس جاکر کہیں کہ وہ ہم کو لوٹیں دیں۔ہم کو بہت خطرہ ہے ان دوستوں کے کتنے پیر میں نے بچوں کو 10 مارچ کو جمعرات کے دن ڈبی بازار اپنے غیر احمدی رشتہ داروں کے ہاں بھیج دیا ہوا تھا۔گھر میں میں اور میرا لنڈ کا جمال احمد ہی تھے۔14 مارچ کی صبح کو نہیں لوگ آکر کہنے لگے کہ تم کو قتل کر دیا جائے گا۔تم اب یہاں سے چلے جاؤ۔ہم نے کہا ہم نہیں جائیں گے۔۔۔میں نے اپنے لڑکے کو کہا کہ تم داتا گنج کے پاس میرے ایک دوست غیر احمدی مام بخش کا گھر ہے۔وہاں چلے جاؤ کیونکہ میں کچھری چلا ہوں۔شام تمہیں کیا پاکہ کوئی نقصان پہنچائیں۔ہم کچہری گئے۔مگر وہاں ڈپٹی کمشنر صاحب نہ ملے کیونکہ وہ آئے ہی نہ تھے۔