تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 164 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 164

۱۶۲ فسادات سے دوچار دن پہلے ایک صاحب میرے آئے اور کہنے لگے ” امیر صاحب جماعت احمدیہ لاہور کا حکم ہے کہ آپ اپنے گھر کے تمام افراد کے نام اور عمر وغیرہ ایک کاغذ پر لکھ دیں۔تاکہ وہ نام پولیس میں دیگر حفاظت کی تدابیر کی جائیں یا میں نے اُن سے کہا کہ " امیر صاحب کا تحریری حکم سے آیئے۔میں ان کا خط پہچانتا ہوں۔پھر آپ کو لکھدوں گا یا مگر وہ پھر نہیں آئے۔- مساوات کے دنوں میں لوگوں کی ٹولیاں کم تر دن میں اور بیشتر راتوں کو آئیں۔اور کتنی کتنی دی تک میرے مکان کے سامنے کھڑے ہو کر نہایت اشتعال انگیز نعرے لگائیں۔اور چلی جاتیں یہ سلسلہ رات کے ایک اور دو بجے تک جاری رہتا۔ہم لوگ کواڑ مضبوطی سے بند کیے اندر گھر میں بیٹھے رہتے۔اور سب کچھ سنتے رہتے۔2 - فسادات کے ایام میں اس امر کی برا یہ خبریں ملتی رہ ہیں کہ لوگ ارادہ کر رہے ہیں۔کہ رات کو پٹرول ڈال کر تمہارے مکان کو آگ لگا دیں اور بوتلیں لیے پھر رہے ہیں۔آخرہ مارچ کو وہ لوگ آگئے۔اور مکان کو پھونک دینا چاہا۔مگر مشکل یہ آپڑی کہ مکان کی طویہ کی منزلوں میں دوسرے غیر احمدی حضرات رہتے تھے۔اور نیچے کی منزل کو آگ لگانے سے اوپر تک تمام مکان جلتا تھا۔اس لیے وہ لوگ اپنے ارادہ میں کامیاب نہ ہو سکے۔اور مجبوراً چھوڑ کر چلے گئے۔اوپر کی منزل میں جو غیر احمدی رہتے ہیں۔انہوں نے فسادیوں سے یہ بھی کہا۔” تم تو آگ لگا کر چلدو گے۔مگر میں سرکاری ملازم ہوں جب بعد میں سرکار مجھ سے جواب طلب کر یگی۔کہ تم نے کیوں نہ روکا۔تو میں کیا جواب دوں گا۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا۔کہ میں مارا جاؤں گا پھر میں اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ ان کے گھر میں سوائے قرآن شریف اور دینی کتابوں کے کچھ نہیں۔تم قرآن شریف کے نسخوں کو کس طرح جلا سکتے ہو ہے جو قرآن شریعت ان کے پاس ہیں اُن میں سے ایک قرآن انہوں نے مجھے بھی پڑھنے کے لیے دیا تھا۔اور وہ میرے پاس ہے کیا اس پر انہوں نے کہا۔کہ اچھا وہ قرآن شریف نہیں لا کہ دکھاؤ یہ میں نے اُن صاحب کو چند دن پہلے تفسیر کبیر کی پہلی جلد پڑھنے کے لیے دی تھی۔وہ انہوں نے لا کہ بلوائیوں کو دے دی کہ لو دیکھ اس پر بلوائی تغیر کبیر اپنے ساتھ لے گئے۔اور مکان کو چھوڑ گئے۔بعد کے ایام میں ایک شخص اُن میں سے آیا اور بڑی خاموشی کے ساتھ وہ تفسیر کبیر اُن کو واپس کر گیا۔جو انہوں نے مجھے دیدی۔