تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 161
104 جو نازک تر ہو رہی ہے بہتر ہو سکتی ہے۔منت اور لجاجت سے اسلام اور انسانیت تک کا واسطہ دے کہا سے مدد کی درخواست کی مگر اس کا یہی جواب تھا کہ ہر جگہ ایسے ہی حالات ہیں اور آگیں لگی ہوئی ہیں۔پولیں کسی کسی کی مدد کرے۔میں نے کہا بھی کہ ہم احمدی جو اس وقت ظلم کا نشانہ اور تحریر مشق بنے ہوئے چند گفتی کے ہیں لاکھوں کی آبادی میں ہمارا مناسب ہی کیا ہے مگر اس افسر نے یہ کہ کر ٹیلی فون بند کر دیا کہ افسوس ہے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتے یاں - شیخ عبدالحمید صاحب نے انہیں دنوں مزنگ سے ایک پوسٹ کارڈمیں حسب ذیل روداد لکھی کہ سن جمعہ کے روز بعد از دو پر ہمارے مکان پر بھی حملہ ہوگیا۔مشکل جائیں بجا کر اور ملڑی کا انتظام ہو جانے پر رات کے وقت شیخ بشیر احمد صاحب کی کو بھٹی پر بچوں کولے کر پہنچے۔میرے پاس اسی مرکان میں میرا اپنا راشن ڈپو بھی تھا۔وہ ڈیو اور مکان کا تمام کار آمد سامان لوٹ لیا گیا۔باقی سامان کو برپ سڑک رکھ کر جلا دیا گیا۔اسی لوٹ کے باعث ہمارے پاس اوڑھنے کے لئے ایک چادر تک بھی باقی نہیں رہی۔مکان کے درو دیوار تک کو بھی جہاں تک حملہ آوروں سے ممکن ہو سکا نقصان پہنچانے کی پوری پوری کوشش کی گئی۔اب اس مکان میں رہنا نا ممکن ہو گا۔“ شیخ صاحب کے مکان کے بالکل قریب ہی مرنگ کی پولیس چوکی ہے۔مگر باوجود اس کے غنڈوں نے چھاپہ مار کر ایک بے کس ، کیلے اور لاچار احمدی کا گھر بار تباہ و برباد کر کے ہی چھوڑا اور انہیں مالی طور پر گیارہ ساڑھے گیارہ ہزار مہوریہ کا نقصان پہنچا گئے۔اور وہ پولیں جو فساد سے قبل انہیں ہر طرح مسلی و تشفی دیتی رہی تھی وقت پڑنے پر اُن کے کام نہ آسکی۔۴ - جماعت حلقہ گنج (مغلپورہ لاہور کے صدر صاحب نے ایک تحریری بیان میں فسادات لاہور کا پس منظر بتاتے ہوئے لکھا : مذکورہ بالا حالات نے ہمارے حلقہ کی فضاء کو بھی کما حقہ متاثر کیا۔یہاں کے لوگ بھی احمدیوں کے خلاف ہو گئے۔سب سے پہلا واقعہ باغبانپورہ میں ماسٹر منظور احمد صاحب کی شہادت