تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 160
کے بال بچے قلعہ گو بر سنگھ عبدالکریم روڈ کے اس علاقہ میں رہتے تھے جو امرتسر کے سٹورید پیشت اور شرارت پسند لوگوں کی آماجگاہ ہے۔اس لیے صبح ۱۰٫۹ بجے کا ر لے کر یکی اپنے بڑے بھائی ڈاکٹر محمد یعقوب خان آن میو ہسپتال کو وہاں سے۔۔۔۔چھپ چھپا کر لے آیا کیونکہ ہمسائیوں تک کی نظر میں آنے والے حالات کی غمانہ ہی کر رہی تھیں۔ملازم اور بھانجا وہاں ہی رہ گئے تھے۔جب واپس گھر پہنچے تو تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ بعد ملازم وہاں سے بھاگ کر آیا اور بتایا کہ غنڈوں کا ایک گروہ جس کی سرکردگی بعضی خوش پوش نو جوان کر ر ہے ہیں مکان میں گھس کر لوٹ کھسوٹ ہیں مشغول ہے۔اور ساتھ ہی کچھ اشیاء گھر کے سامنے رکھ کر نذر آتش کر ر ہے ہیں۔یہ خبر سنتے ہی ہیں نے قلعہ گوجر سنگھ کے تھانہ میں فون کیا مگر ایک گھنٹہ متواتر کوشش کرنے کے باوجود نمبر نہ مل سکا۔اس کے بعد یعنی پہلے ملازم کے آدھ پون گھنٹہ کے بعد دوسرے ملازم نے جس کو گھر سے صورت حال کا پتہ لینے کے لیے بھیجا تھا اگر اطلاع دی کہ لوٹ گھوٹ اور آتش زدگی کا عمل زور و شور سے جاری ہے محلہ والے ویسے کھڑے ہیں اور مداخلت نہیں کر ر ہے۔اس دوران میں تھانہ سول لائن میں فون کیا کہ اس وقت میرے چھوٹے بھائی اور ہمشیرہ کا مکان لوٹا اور جلایا جارہا ہے۔خدا کے واسطے اس وقت مدد کرو۔جو اگر اس وقت پہنچ سکے تو کچھ نقصان سے بچ جائے گا۔وہاں سے اطلاع ملی کہ اس کام کے لیے فلاں نمبر پر فون کر د۔اس نمبر سے بتایا گیا کہ اس وقت ان کے پاس فالتو آدمی نہیں سارا عملہ ڈیوٹیوں پر متعین ہے۔جس وقت کوئی فارغ ہوگا وہاں بھیج دیا جائے گا۔۔۔۔۔۔ان سے بھی میں نے منت سماجت کی مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی۔اس کے بعد میں نے باری باری ڈی ایس پی اور ایس ایس پی کے دفتر اور گھر پر فون کیا مگر ہر جگہ سے یہی اطلاع ملی کہ ڈیوٹی پر گئے ہوئے ہیں۔پھر میں نے چیف منسٹر مسٹر دوستانہ کے دولت کدہ پر فون کیا جہاں سے اُن کے پی۔اے کو عرض کیا گیا تو اس نے کہا کہ دولتانہ صاحب تو اس وقت گورز صاحب کے بنگلہ پر میٹنگ میں مشغول ہیں البتہ پولیس کے ایک سینٹر آفسر حمن کا نام دریافت کرنے پر بھی انہوں نے نہ بتایا انہیں میں نے فون پر کہا کہ اس وقت میرے بھائی اور ہمشیرہ کا مکان لوٹا جارہا ہے سامان نذر آتش ہورہا ہے ہمسایہ تک تماشائی بنے ہوئے ہیں اگر اس وقت چند سلے سپاہی وہاں پہنچ سکیں تو صورت حال