تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 155
۱۵۳ سال سے پوری شدت سے جاری تھا اور مرکزی حکومت خصوصا جناب خواجہ ناظم الدین صاحب وزیر اعظم پر اس کے لیے بالخصوص دباؤ ڈالا گیا تھا مگر خواجہ صاحب احمدیوں کی موت کے پردانہ پر دستخط ☑ کرنے نہ پائے تھے کہ اُن کی حکومت کا تختہ الٹ گیا وگر نہ جیسا کہ انہوں نے اپنے عدالتی بیان میں تسلیم کیا پردہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ : اگر نوے فیصدی علماء اس پر اتفاق کر لیں کہ مرزا غلام احمد کو ماننے والا کا فر ہے اور اس کو سنگسار کر کے بلاک کر دینا چاہیئے تو وہ اس فیصلے کے آگے مرتسلیم خم کر دیں گے پالے لاہور اور اس کے ماحول | بیت باھالو موڑنے کے متمنی ذکرکے بعد ا ہو اور اس کے پھول ماحول پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔کے واقعات ۶ مایس شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت احمدیہ لا ہوں۔نے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں 4 مارچ ۱۹۵۳ء کو لکھا کہ : شہر کے مختلف حصوں سے انتہا درجہ تشویشناک اطلاعات موصول ہوتی ہیں۔کئی بار معراج الدین صاحب کے متعلق یہ پیغام موصول ہوا کہ اگر چہ وہ اپنے بچے اور ستورات کہیں بھجواچکے ہیں لیکن وہ خود اور ان کے بھائی پہلوان معراج الدین خطر ناک حالات میں گھرے ہوئے ہیں۔دشمنوں نے نرغہ ڈالا ہوا ہے۔اسی طرح مسعود احمد صاحب الفضل کی طرف سے پیغام موصول ہوا کہ وہ بھی دشمنوں میں گھرے ہوئے ہیں ان کا انتظام کیا جائے۔مہماشہ فضل حسین صاحب کے گھر کو بھی آگ لگانے کی کوشش ہو رہی تھی۔انہوں نے بھی مدد کی درخواستیں بھیجیں۔ان تفاصیل میں گزشتہ اٹھتالیس گھنٹوں میں ہر لمحہ ایسے ہی پیغامات موصول ہوتے رہے۔اور میں نے اور میرے رفقاء نے ہر ممکن مساعی کی کہ پولیس کے افسران کو مدد کی طرف متوجہ کریں اور کئی بار میاں مظفر احمد صاحب کی وساطت سے بھی کوشش کی لیکن نتیجہ یہ آمد نہ ہوا۔اور حالات بد سے بدتر ہوئے گئے۔اس وقت یہ حالت ہے کہ ملک برکت علی صاحب ٹمبر مرچنٹ راوی روڈ کی دکان مان محمد طفیل صاحب سود اگر چوب - مستری نذر محمد صاحب آرہ ، مستری موسیٰ صاحب اور چھلے ه رپورٹ تحقیقاتی عدالت می ۳۱۳